انوارالعلوم (جلد 7) — Page 34
۳۴ گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا الگ الگ ہیں نیکی کرنا الگ الگ ہیں عام لوگ ہی نہیں سمجھ سکتے کہ گناہ سے بچنا اور۔نیکی کرنا الگ الگ باتیں ہیں۔وہ سمجھتے ہیں ایک ہی بات ہے مگر کسی کا حق نہ مارنا اور کسی کو اپنے پاس سے کچھ دے دینا دونوں باتیں ایک کس طرح ہو سکتی ہیں؟ حضرت مسیح موعودؑ سناتے ہیں۔ایک شخص کسی کے ہاں مہمان آیا میزبان نے اس کی بڑی خاطر کی لیکن اس کی بیوی چونکہ بیمار تھی اس لئے اس نے یہ خیال کر کے کہ پوری پوری خاطر تواضع نہیں ہو سکی۔جب مہمان جانے لگا تو معذرت کی کہ مجھے افسوس ہے میں آپکی اچھی طرح خاطر نہیں کر سکا۔آگے مہمان انہی لوگوں میں سے تھا جو برائی نہ کرنا اور نیکی کرنا ایک ہی سمجھتے تھے وہ کہنے لگا آپ مجھ پر کوئی احسان نہ جتائیں۔میزبانوں کی عادت ہوتی ہے کہ مہمانوں پر احسان جتانے لگ جاتے ہیں۔اگر آپ نے میری خاطر کی ہے تو میں نے بھی کوئی معمولی کام نہیں کیا۔جس کمرہ میں ٹھہرا ہوا تھا اس میں آپ کا اتنا اسباب پڑا تھا تم ہر وقت میرے پاس نہ رہتے تھے اگر میں اس سامان کو آگ لگا دیتا تو پھر تم کیا کرتے؟ یہ نیکی کرنے اور بدی نہ کرنے کو ایک ہی سمجھنے کی مثال ہے۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں وہ ترقی سے محروم ہو جاتے ہیں۔چونکہ ارادہ ہے کہ اس لیکچر کو اسی وقت ختم کردوں اور چونکہ میں بیمار رہا ہوں۔اسی ماہ کی۲۱-۲۰ تاریخ کو جلاب لیا تھا اور ابھی تک ہاتھ پر فالج کی طرح کا اثر ہے اور کل کے لیکچر کے لئے بھی نوٹ بھی لکھنے ہیں اس لئے لیکچر کو اور مختصر کئے دیتاہوں اور نفس کی نیکیاں گنادیتاہوں۔ذاتی نیکیاں نفس کی نیکیاں سے ہیں۔شجاعت چستی، علم ،تواضع ، غیرت ، شکر، حسن ظنی، دلی خیر خواہی نہ کہ عملی خیر خواہی ،یہ نیکیوں کی جان ہیں اور ذاتی نیکیاں ہیں۔بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے والی نیکیاں اب میں بنی نوع سے تعلق رکھنے والی نیکیاں بیان کرتا ہوں :۔۱۔ہمدردی اور خیر خواہی یعنی دل میں بھلائی چاہنایعنی کسی کے پاس جا کر اسے بتانا کہ مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔اس سے بڑا فائدہ ہوتا ہے۔اس سے ٹوٹی ہوئی ہمتیں