انوارالعلوم (جلد 7) — Page 515
انوار العلوم جلدے ۵۱۵ دعوة الامير آئے وہ اس مجمل پر نگاہ کر کے اس کو سمجھ سکتا ہے اور صرف اس سورۃ کو لے کر تمام دنیا کے ادیان کا مقابلہ کر سکتا ہے اور کل مدارج روحانی کو معلوم کر سکتا ہے ۔ یہ تو بعض امثلہ اصولی علوم کی میں نے بیان کی ہیں ان کے علاوہ بارہواں علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو تفصیلی دیا گیا ہے جس کے مطابق مختلف آیات کے تراجم اور ان کے معارف جو آپ نے بیان کئے ہیں اور ضروریات زمانہ کے متعلق جو ہدایات آپ نے قرآن کریم سے اخذ کی ہیں ان کو اگر بیان کیا جائے تو اس کیلئے کئی مجلد کتابیں چاہئیں ان علوم کے چشموں نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ کا اس مبدا فیض سے خاص تعلق ہے جو علیم ہے اور جس کی نسبت آتا ہے۔ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَى مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ٢٢٩ ، کیونکہ انسان کی طاقت سے بالکل باہر ہے کہ وہ ایسے علوم کو اپنی عقل سے دریافت کر سکے ۔ آر - آپ کے بتائے ہوئے - وئے علوم اور اصول کے مطابق جب ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں تو اس کے اندر علوم کے سمندر موجیں مارتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کا کنارہ نظر نہیں آتا۔ آپ نے آیت لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ۲۵۰ کے مضمون کی طرف توجہ دلا کر بار بار اپنے مخالفوں کو توجہ دلائی کہ اگر آپ لوگوں کے خیالات کے مطابق میں جھوٹا ہوں تو پھر وجہ کیا ہے کہ ایسے باریک دربار یک علم مجھے عطا کئے جاتے ہیں اور اپنے مخالفوں کو بار بار دعوت مقابلہ دی کہ اگر تم میں سے کوئی عالم یا شیخ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے تو میرے مقابلے پر علوم قرآن کو ظاہر کرے اور ایسا کیا جائے کہ ایک جگہ ایک ثالث شخص بطور قرعہ اندازی قرآن کریم کا کوئی حصہ نکال کر دونوں کو دے اور اس کی تفسیر معارف جدیدہ پر مشتمل دونوں لکھیں پھر دیکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کس فریق کی مدد کرتا ہے مگر با وجود بار بار پکارنے کے کوئی مقابلے پر نہ آیا۔ اور آتا بھی کیونکر؟ کیونکہ آپ کا مقابلہ تو الگ رہا، علوم قرآن میں آپ کے خدام کا بھی کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اور قرآن کریم گویا اس وقت صرف ہمارا ہی ہے۔ اور گویا اس صرف ہما ر ہی ہے ۔ اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے میں آپ کی ایک فارسی نظم قرآن کریم کے متعلق درج کرتا ہوں جس میں آپ نے علوم قرآنیہ کے متعلق لوگوں کو توجہ دلائی ہے۔ از نور پاک قرآن صبح صفا و میده بر غنچہ ہائے دلہا باد صبا وزیده ایں روشنی و لمعان شمس الضحیٰی ندارد و این دلبری و خوبی کس در قمر ندیده یوسف بقعر چاه محبوس ماند تنها و این یوسفی که تن با از چاه بر کشیده