انوارالعلوم (جلد 7) — Page 516
۵۱۶ از مشرق معانی صدہا دقائق آورد قد ہلال نازک زاں نازکی خمیده کیفیت علومش دانی چہ شان دارد؟ شہدیت آسمانی از وحی حق چکیده آں نیر صداقت چوں رو برام آورد ہر یوم شب پرستے در کنج خور خزیده روئے یقیں نہ ببند ہرگز کسے بدنیا الا کسے کم باشد با رویش آرمیده | آن کسی که عالمش شد شد مخزن معارف و آں بے خبر ز عالم کیں عالمے ندیده باران فضل رحمن، آمد ہمقدم او بد قسمت آنکہ ازوے سوئے دگر دویده میل بدی نباشد، الا رگے ز شیطاں آن را بشر بدانم کز ہر شے رہیده اے کان دلربائی دانم که از کجائی تونور آں خدائی گیں خلق آفریده میلم نماند باکس محبوب من توئی بس زیرا کہ زاں فغاں رس نورت بما رسیده دسویں دلیل دسویں دلیل آپ ؑکی صداقت کی کہ وہ بھی درحقیقت سینکڑوں بلکہ ہزاروں دلائل پر مشتمل ہے یہ ہے کہ آپ ؑکو اللہ تعالیٰ نے نہایت کثرت سے اپنے غیب پر مطلع کیا تھا` پس معلوم ہوا کہ آپؑ خدا کے فرستادہ تھے- اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول )سورہ جن ع۲ (27,28: یعنی وہ غیب پر کثرت سے اطلاع نہیں دیتا مگر اپنے رسولوں کو )اظھر علیہ کے معنے ہیں اس کو اس پر غلبہ دیا اس پر وحی مصفیٰ پانی کی طرح ہو جو ہر قسم کی کدورت سے پاک ہو اور روشن نشان کو دئیے جاویں اور عظیم الشان امور سے قبل از وقت اسے آگاہ کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کا مامور ہے اور اس کا انکار کرنا گویا قرآن کریم کا انکار کرنا ہے جس نے یہ قاعدہ بیان فرمایا ہے اور سب نبیوں کا انکار کرنا ہے جنہوں نے اپنی صداقت کے ثبوت میں ہمیشہ اس امر کو پیش کیا ہے چنانچہ بائیبل میں بھی آتا ہے کہ جھوٹے نبی کی علامت ہے کہ جو بات وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہے وہ پوری نہ ہو-