انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 481

انوار العلوم جلدے ۴۸۱ دعوة الامير ضروری تھا کیونکہ اللہ تعالی کے مامور ہمیشہ اعلیٰ خاندانوں میں سے ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر ان کا ماننا دو بھر نہ ہو مگر آپ کا خاندان دنیاوی وجاہت کے لحاظ سے اپنی پہلی شوکت کو بہت حد تک کھو چکا تھا وہ اپنے علاقہ کے خاندانوں میں سے غریب خاندان تو نہیں کہلا سکتا مگر اس کی پہلی شان و شوکت اور حکومت کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ ایک غریب خاندان تھا کیونکہ اس کی ریاست اور جاگیر کا اکثر حصہ ضائع ہو چکا تھا اول الذکر (یعنی ریاست سکھوں کے عہد میں ضبط ہو گئی تھی اور ثانی الذکر (یعنی جاگیر) انگریزی حکومت کے آنے پر ملحق کر لی گئی تھی پس دنیاوی وجاہت اور مال کے لحاظ سے آپ کو کوئی ایسی فوقیت حاصل نہ تھی جس کی وجہ کی وجہ سے یہ کہا جا سکے کہ لوگوں نے اپنی اغراض اور اپنے مقاصد کے پورا کرنے کیلئے آپ کو مان لیا۔ گو آپ کے والد صاحب نے استاد رکھ کر آپ کو تعلیم دلوائی تھی لیکن وہ تعلیم اس تعلیم کے مقابلے میں میں کچھ کچھ بھی نہ تھی جو مدارس میں دی جاتی ہے اس لئے آپ اپنے علاقہ میں یا اپنے علاقہ سے باہر مولویوں اور عالموں میں سے نہیں سمجھتے جاتے تھے ۔ پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بوجہ بڑے عالم ہونے کے آپ کو لوگوں نے مان لیا۔ آپ پیروں یا صوفیوں کے کسی خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے نہ آپ نے کسی پیریا صوفی کی بیعت کر کے اس سے خرقہ خلافت حاصل کیا تھا کہ یہ سمجھا جائے کہ خاندانی مریدوں یا اپنے پیر بھائیوں کی مدد سے آپ کو یہ کامیابی حاصل ہو گئی۔ آپ کسی عہدہ حکومت پر ممتاز نہ تھے کہ یہ سمجھا جائے کہ آپ کے اختیارات سے فائدہ اٹھانے کیلئے لوگ آپ کے ساتھ مل گئے ۔ آپ ایک تارک الدنیا، لوگوں سے علیحدہ رہنے والے آدمی تھے جن کو خلوت نشینی کے باعث قرب و جوار کے باشندے بھی نہیں جانتے تھے ۔ صرف چند لوگوں سے آپ کے تعلقات تھے جن میں سے زیادہ تر تو یتیم اور مسکین لوگ تھے جن کو آپ اپنے کھانے میں سے کھانا دے دیا کرتے تھے یا خود فاقہ سے رہ کر اپنی روٹی ان کو کھلا دیتے تھے یا پھر چند وہ لوگ تھے جو مذہبی تحقیق سے دلچسپی رکھتے تھے۔ باقی کسی شخص سے آپ کا تعلق نہ ہوتا نہ آپ لوگوں سے ملتے تھے نہ لوگوں کو ضرورت ہوتی تھی کہ آپ سے ملیں۔ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ممکن سے ممکن جو روکیں ہو سکتی ہیں وہ آپ کے راستے میں تھیں ۔ آپ کا دعوی ماموریت کا تھا اور آپ کے دعوے کو سچامان کر علماء کی حکومت