انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 27

انوار العلوم - جلدے ۲۷ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء وقت اگر تمہارے پاس امانت کا روپیہ پڑا ہے اور روپے والا مانگتا ہے ، والا مانگتا ہے مگر آپ اس میں سے بیمار پر خرچ کر لیتے ہیں اور اسے نہیں دیتے تو یہ خیانت ہے ۔ آپ کا فرض یہ ہے۔ آپ کا فرض یہ ہے کہ روپیہ جس کا ہے اسے دے دیں اور مریض کو خدا پر چھوڑ دیں پھر خواہ وہ مرے یا جئے ۔ پس کبھی کسی کے مال میں خیانت نہ کرو خواہ کسی قدر ہی ضرورت کیوں نہ ہو اور خیانت کے مفہوم کو وسیع سمجھو محدود نہ کرو۔ ایک عیب تہمت ہے کسی پر تہمت لگانا بہت بڑا عیب ہے۔ کسی کے متعلق اپنے (۲) تهمت دل میں برا خیال رکھنا بد ظنی ہے اور اس کا بیان کرنا تہمت ہے۔ دیکھو تو سہی اگر تمہیں کسی مجسٹریٹ کے متعلق معلوم ہو کہ اس نے فلاں کو بغیر تحقیقات سزا دے دی ہے تو کتنا برا لگے گا مگر ذرا اپنے متعلق دیکھو ایک بات کو لے کر دوسرے کے متعلق یو نہی فیصلہ کر دیتے ہو کہ فلاں ایسا ہے۔ کسی کو چور ڈاکو زانی، فاسق فاجر کہ دینا اس کو سزا دینا ہے کیونکہ اس طرح تم اس کی عزت کو گراتے ہو ۔ تم ایک غلط فیصلہ کرنے والے فیصلہ کرنے والے مجسٹریٹ پر ناراض ہوتے ہو مگر خود وہی غلطیاں کرتے ہو ان باتوں کو بھی چھوڑ دو۔ (۳) اس کو دیکھ کر ظام ایک گناہ ظلم ہے یہ گناہ ظلم ہے یہ گناہ بہت وسیع طور پر پھیلا ہوا ہے۔ بعض دفعہ اس کو و مجھے خیال آتا ہے کہ بالشویک طریق اس کا طبعی نتیجہ ہے۔ امیر غریب پر بادشاہ فقیر پر آقا نوکر پر ، افسر ماتحت پر بڑا چھوٹے پر زبردست کمزور پر ظلم کرتا ہے اور ہر ایک مہی چاہتا ہے کہ دوسرے کا حق لے لے حالانکہ مومن کا کام یہ ہے کہ اپنا حق دوسرے کو دے دے اور اگر اس درجہ پر نہیں تو کم از کم دوسرے کا حق تو تلف نہ کرے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ایک شخص پندرہ سال کام کرتا ہے اور تنخواہ لیتا ہے مگر جب وہ ملازمت چھوڑ دیتا ہے تو بھی اس پر اس لئے ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اس نے ہمار ا فلاں کام نہ کیا بڑا نمک حرام ہے ۔ مگر نمک تو تم نے بھی اس کا کھایا وہ تمہارا کام کرتا رہا اس کے بدلہ میں تم نے بھی اسے فائدہ پہنچایا ۔ گاؤں میں نجار ، معمار وغیرہ کام کرنے والے لوگ ہوتے ہیں ان کے حقوق تلف کرنا بھی ظلم ہے پس عورتوں کے حقوق ، نوکروں کے حقوق ، گاؤں میں کام کرنے والوں کے حقوق اور ان کے علاوہ اور بھی جس کے حقوق ہوں ان کا تلف کرنا بہت بڑا گناہ ہے اس سے بچنا چاہئے۔ ایک عیب دھوکا ہے۔ ایک شخص کسی پر اعتبار کرتا ہے مگر وہ اس سے ناجائز (۴) دھوکا فائدہ اٹھاتا ہے یہ بھی بڑا گناہ ہے ۔ بعض لوگ دھوکا دیکر کسی کی چیز لے لیتے ہیں