انوارالعلوم (جلد 7) — Page 436
انوار العلوم جلدے دعوة الامير ثبوت تک پہنچا دیا چنانچہ پرانی مسیحی تاریخوں سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح کے حواری ہندوستان کی طرف آیا کرتے تھے اور یہ کہ تبت میں ایک کتاب بالکل انجیل کی تعلیم کے مشابہ موجود ہے جس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اس میں عیسی کی زندگی کے حالات ہیں جس سے معلوم ہوا کہ مسیح علیہ السلام ان علاقوں کی طرف ضرور آئے تھے ۔ اسی طرح آپ نے ثابت کیا کہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہے اور افغانستان اور کشمیر کے آثار اور شہروں کے نام اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان ممالک میں یہودی لا کر بسائے گئے تھے چنانچہ کشمیر کے معنی جو کہ اصل میں کثیر ہے (جیسا کہ اصل باشندوں کی زبان سے معلوم ہوتا ہے) ”شام کے ملک کی مانند " کے ہیں۔ ک کے معنی مثل کے ہیں اور شیر شام کا نام ہے۔ اسی طرح کابل اور بہت سے دوسرے افغانی شہروں کے نام شام کے شہروں کے ناموں سے ملتے ہیں اور افغانستان اور کشمیر کے باشندوں کے چہروں کی ہڈیوں کی بناوٹ بھی بنی اسرائیل کے چہروں کی بناوٹ سے ملتی ہے مگر سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے تاریخ سے مسیح کی قبر کا بھی پتہ نکال لیا جو کہ کشمیر کے شہر سری نگر کے محلہ خانیار میں واقع ہے۔ کشمیر کی پرانی تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نبی کی قبر ہے جسے شہزادہ نبی کہتے تھے اور جو مغرب کی طرف سے انیس سو سال ہوئے آیا تھا اور کشمیر کے پرانے لوگ اسے عیسی صاحب کی قبر کہتے ہیں۔ غرض متفرق واسطوں سے پہنچنے والی روایات کے ذریعے سے آپ نے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح فوت ہو کر کشمیر میں دفن ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ان کے حق میں پورا ہو چکا ہے که او ينهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارِ وَ مَعِيْنِ ، اور ہم نے مسیح اور اس کی ماں کو ایک ایسے مقام پر جگہ دی جو اونچی جگہ ہے اور پھر ہے بھی میدان میں اور اس میں چشمے بھی بہت سے پھوٹتے ہیں اور یہ تعریف کشمیر پر بالکل صادق آتی ہے۔ غرض مسیح کی زندگی کے حالات ان کی موت تک ثابت کر کے اور ان کی قبر تک کا نشان نکال کر حضرت مسیح موعود نے مسیح کی خدائی پر ایسا زبردست حملہ کیا ہے کہ مسیح کی خدائی کا عقیدہ ہمیشہ کیلئے ایک مردہ عقیدہ بن گیا ہے اور اب کبھی بھی مسیحیت دوبارہ سر نہیں اٹھا سکتی۔ چونکہ مسیحی مذہب کیا بلحاظ سیاسی فوقیت اور کیا بلحاظ سب مذاہب کیلئے ایک ہی ہتھیار وسعت اور کیا بلحاظ اپنی جلی کوششوں کے اور کیا تبلیغی بلحاظ علمی ترقی کے اس زمانے میں دوسرے تمام ادیان پر ایک فوقیت رکھتا تھا اس وجہ سے اس