انوارالعلوم (جلد 7) — Page 430
انوار العلوم جلدے ۴۳۰ دعوة الامير اس کا مولف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم دیکھی جاتی ہے ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتا دے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ و برہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ کیا گیا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کی نشان دہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی و قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بھی بیڑہ اٹھالیا ہو اور مخالفین اسلام الفین اسلام اور منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ یہ دعوی کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ و مشاہدہ کرے اور اس تجربہ اور مشاہدہ کا غیرا قوام کو مزہ بھی چکھا دیا ہو ۔ ۱۶۷۔ یہ رائے آپ کے چال چلن اور خدمت اسلام کی نسبت اس شخص کی ہے جس نے آپ کے دعوائے مسیحیت پر ان اہل مکہ کی طرح جن کی زبانیں رسول کریم ان کو امین و صادق کہتے ہوئے خشک ہوتی تھیں نہ صرف آپ کے دعوے کا انکار کیا بلکہ اپنی باقی عمر آپ کی تکفیر اور تکذیب اور مخالفت میں بسر کر دی مگر دعوے کے بعد کی مخالفت کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص با وجود بتیس دانتوں میں آئی ہوئی زبان کی طرح مخالفوں اور دشمنوں کے نرغہ میں رہنے کے ہر دوست و دشمن سے اپنی صداقت کا اقرار کروالے اور پھر وہ ایک ہی دن میں اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنے لگے ۔ اللہ تعالی ظالم نہیں کہ ایسے شخص کو جو اپنی بے عیب زندگی کا دشمن سے بھی اقرار کروالیتا ہے یہ بدلہ دے کر ایک ہی دن میں اَشَرُ النَّاس بنا دے اور اور یا تو بڑے سے بڑا لالچ اور سے بڑا لالچ اور مہیب سے صہیب خطرہ اسے صداقت سے پھیر نہیں سکتا تھا اور یا پھر اللہ تعالٰی اس کے دل کو ایسا مسح کر دے کہ وہ اچانک اس پر جھوٹ باندھنا شروع کر دے ۔ جس طرح رسول کریم اللہ نے اپنے مخالفوں کو چیلنج پر چیلنج دیا کہ وہ آپ کی پہلی زندگی پر حرف گیری کریں یا بتائیں کہ وہ آپ کو اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا حامل نہیں سمجھتے تھے مگر کوئی یا شخص آپ کے مقابلے پر نہ آیا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتاتا ہے کہ کبھی کوئی مخالف تیری سوانح پر کوئی داغ نہیں لگا سکے گا ۱۹۸۔ اور پھر اس دعوے کے مطابق متواتر مخالفوں کو چیلنج دیا کہ وہ آپ کے مقدس چال چلن کے خلاف کوئی