انوارالعلوم (جلد 7) — Page 431
۴۳۱ ۴۳۱ دعوۃالامیر بات پیش کریں یا ثابت کریں کہ وہ آپ کے چال چلن کو بچپن سے بڑھا پے تک ایک اعلیٰ اور قابلِ تقلید نمونہ اور بے عیب نہیں سمجھتے تھے مگر باوجود باربار مخالفوں کے اُکسانے کےکوئی شخص آپ کے خلاف نہیں بول سکا اور آپ تک بھی وہ لوگ زندہ ہیں جو آپکی جوانی کے حالات کے شاہد ہیں مگر باوجود سخت مخالفت کے وہ اس امر کی گواہی کو نہ چھپاسکتے تھے اور نہ چھپا سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چال چلن حیرت انگیز طورپر اعلیٰ تھا اور بقول بہت سے ہندوؤں اور سکھوںاور مسلمانوں کے آپکے بچپن اور جوانی کی زندگی ’’ اللہ والوں کی زندگی ‘‘تھی۔پس جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نفس ناطقہ آپ کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت تھا جسے اللہ تعالیٰٰ نے قرآن شریف میں مخالفوں کے سامنے بطور حجت کے پیش کیا ہے اسی طرح مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی زندگی آپ کی صداقت کا ثبوت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔آپ کا اپنا نفس ہی آپ کی سچائی کا شاہدہے۔چوتھی دلیل غلبہ ٔاسلام بر اَدیان باطلہ چوتھی دلیل یایوں کہنا چاہئے کہ چوتھی قسم کے دلائل آپ کی صداقت کے ثبوت میں یہ ہیں کہ آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰٰ نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کیا ہے جسے قرآن کریم میںمسیح موعود کا خاص کا م قرار دیا گیا ہے یعنی آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰٰ نے اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کر کے دکھایا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلُہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرُہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ(توبہ ع۵ فتح ع۴) خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دیکر بھیجا ہے تا اللہ تعالیٰی اس دین کو باقی تمام ادیان پر غالب کر کے دکھادے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات زمانۂ مسیح موعود میں ہوگی، کیونکہ فتنہ ٔ دجال کے توڑنے اور یاجوج ماجوج کی ہلاکت اور مسیحیت کے مٹانے کا کام آپؐ نے مسیح کے ہی