انوارالعلوم (جلد 7) — Page 25
انوار العلوم - جلدے ۲۵ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء عزت و تکریم تمہارا فرض ہے اور من عقائد و مسائل کی حفاظت ضروری ہے کسی مجلس میں اگر کوئی ان کی ہتک کرتا ہے تو وہاں سے اٹھ جانا چاہئے اور جس کام پر تمہیں مقرر کیا جائے اس میں اگر کوئی روکیں پیدا کرتا ہے تو ان کا مقابلہ کرو اور کام کو پورا کر کے دکھاؤ ۔ دیکھو ایک چھوٹی سی قوم سکھ ہے میں اس کی تعریف نہیں کرتا کہ اس نے جو طرز عمل اختیار کیا وہ اچھا ہے مگر اس نے کیسی جرات دکھائی ہے ان کی اس جرأت سے دل لذت محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے ماریں کھائیں تکلیفیں اٹھائیں ، جیل خانوں میں گئے مگر یہی کہتے رہے کہ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے مقدس مقام غیروں کے قبضہ میں ہوں۔ ہم قانونی لحاظ سے نہیں کہتے کیونکہ ہمیں اصل حالات معلوم نہیں کہ وہ کہاں تک حق بجانب ہیں مگر ان کی غیرت قابل تعریف ہے اور ان کا اس قدر تکالیف برداشت کرنا دل میں سرور پیدا کرتا ہے۔ پس تم کو با غیرت بننا چاہئے اور ہر بات میں ایسی غیرت دکھانی چاہئے کہ دشمن بھی تمہاری غیرت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو۔ (۹) ناشکری یہ بھی ایک ذاتی عیب ہے۔ اس کی وجہ سے انسان ترقی سے محروم ہو جاتا ہے۔ میرے نزدیک مسلمانوں کی تباہی کا بڑا باعث ناشکری ہی ہے۔ خدا تعالی نے رسول کریم ال کے ذریعہ انہیں یہ نعمت عطا کی کہ ان میں نبی پیدا کیا مگر اس کو انہوں نے رو کر دیا اور رسول کریم ان کے درجہ کو گھٹا کر مسیح کو بڑا بنانا شروع کر دیا۔ اس وجہ سے عذاب میں مبتلاء کئے گئے۔ مسلمان آنحضرت ﷺ کے امتنان اور احسان کو بھول گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو بھی اصل منعم نے بھلا دیا اور وہ ذلیل ہو گئے ۔ پس ضروری ہے کہ جنہوں نے ہم تک دین پہنچایا اور جن کی قدر اور عزت کرنا ضروری ہے ان کے شکر گزار ہوں۔ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو تو قدردانی کی عادت ڈالو ۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لم يشكر الله لله جس نے انسانوں کا شکر نہ کیا وہ خدا کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔ گویا قابل شکریہ انسانوں کا شکر گزار ہونا اتنا ضروری ہے کہ ایسا نہ کرنے سے انسان خدا کا شکر گزار بھی نہیں ہو سکتا پس آپ کو نا شکر گزار نہیں ہونا چاہئے۔ (۱۰) خود کشی یہ بھی ایک ذاتی عیب ہے گو اس کے متعلق سوال ہو گا کہ کیا ہماری جماعت (۱۰) خودکشی میں یہ طیب پایا جاتا ہے؟ اگر چہ ایسا ہے اس سوال میں یہ عیب پایا جاتا ہے ؟ اگر چہ ایسا نہیں ہے لیکن پچھلے سال میرے پاس ایک خط آیا تھا جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ بعض لوگ خیال رکھتے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔ بات