انوارالعلوم (جلد 7) — Page 417
انوار العلوم جلدے ۴۱۷ دعوة الامير ان سے صلح رکھے بغیر معرض خطر میں پاتی ہے اور بعض علاقوں میں تو انہیں کامل حکومت حاصل ہے۔ جیسے روس میں اور سوئیٹزرلینڈ میں اور بعض حصص آسٹریلیا میں اور روز بروز یہ جماعت طاقت پکڑتی جاتی ہے۔ مسیح موعود کے زمانے کی سیاسی حالت کی ایک خصوصیت رسول کریم ال نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت حکام کی کثرت ہوگی ۔ حذیفہ ابن الیمان" روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اشراط ساعت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس وقت شرط زیادہ ہو جائیں گے ۱۳۶، اور شرط والی اور حاکم کے مددگاروں اور نائبوں کو کہتے ہیں یہ علامت بھی اس وقت پوری ہو چکی ہے پہلے جو نظام حکومت ہوا کرتا تھا اس میں اس قدر مدد گاروں کی حاکموں کو ضرورت نہیں پڑتی تھی ہر علاقے میں ایک دو حاکم کافی سمجھے جایا کرتے تھے لیکن اس زمانے میں انتظام کا طریق اس طرح بدل گیا ہے اور حکومت کی ذمہ داری کی اس قدر شاخیں نکل آئی ہیں کہ پہلے سے سینکڑوں گئے مددگار افسروں کیلئے رکھنے پڑتے ہیں پولیس اور صحت عامہ اور رجسٹریشن اور تعمیر عامہ اور ڈاک خانہ اور ریل اور تار اور انہار اور نگرانی مخدرات و مسکرات اور پڑتال و غیرھا محکمے اس قدر وسیع ہو گئے ہیں کہ پہلے اس قدر وسیع نہ تھے اس لئے گورنمنٹ کو ہر حاکم کے ساتھ ایک وسیع عملہ رکھنا پڑتا ہے۔ ایک تغیر مسیح موعود کے زمانے کی سیاست میں رسول کریم اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت حدود ترک کی جائیں گی ۔ ۱۴۷ حضرت علی سے دیلمی نے روایت کی ہے کہ آخری زمانے کی علامتوں میں سے ایک ترک حدود بھی ہے یہ علامت بھی پوری ہو چکی ہے اسلامی حکومتوں میں اس وقت حدود ترک ہیں۔ اِلَّا مَا شَاءَ اللهُ - ترکوں کی حکومت میں عرب میں، مصر میں ایران میں بلکہ خود جناب ہی کے بلاد میں زانی کو رجم کی اور چور کو قطع ید کی سزا نہیں دی جاتی بلکہ بعض اسلامی حکومتیں تو بذریعہ معاہدات ان سزاؤں کے دینے سے باز رکھی گئی ہیں۔ یہ علامت ایسی واضح ہے کہ اسلامی اقتدار کے زمانے میں اس امر کا کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اسلامی احکام کو اس طرح کبھی پس پشت ڈالا جائے گا اور مسلمان حکومتیں اگر خواہش بھی رکھیں گی تو حدود اسلامیہ کو جاری نہیں کر سکیں گی۔ علاوہ ان علامات کے بتانے کے جو انسان کے مذہبی اخلاقی، علمی، جسمانی، سیاسی، نسلی تمدنی و غیر ها زندگی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں رسول کریم نے مسیح موعود کے زمانے کے