انوارالعلوم (جلد 7) — Page 416
۴۱۶ دعوۃالامیر پہلے تھے یعنی عرب میں طوائف الملوکی پیدا ہو جائے گی۔یہ علامت بھی پوری ہو گئی ہے۔عراق اور شام اور مصر سلطان کے قبضہ سے نکل گئے ہیں اور ترکی حکومت کو کسی قسم کا خراج اور مدد نہیں دیتے اور عرب پھر طوائف الملوکی کی حالت میں ہو گیا ہے۔گو حجاز میں ایک حکومت قائم ہے مگر ابھی تک اس کی حالت بوجہ کثرت اعداء و قلت مال کے محفوظ نہیں ہے اور اس کے علاوہ دیگر علاقہ جات عرب تو بالکل بے انتظام حالت میں ہیں اور وہاں کی حکومتیں متمدن حکومت نہیں ہیں۔ایک سیاسی تغیرّاس زمانے کا آپ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت یاجوج اور ماجوج کو ایسی طاقت حاصل ہوگی کہ دوسری اقوام کو ان سے مقابلے کی بالکل مقدرت نہ ہوگی چنانچہ نواس بن سمعان ؓکی روایت مسلم اور ترمذی میں ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں اللہ تعالیٰ ان کروحی کرے گا کہ اتش قد اخرج عباداتی لادان لاحد بقتالهم فكرزعبادي إلى الطوروثه الله ياجوج ماجوج ۲۳۔یہ علامت بھی پوری ہو چکی ہے، یاجوج اور ماجوج ظاہر ہو چکے ہیں اور ان سے مقابلہ کرنے کی طاقت کی میں نہیں ہے۔یاجوج اور ماجوج سے مراد روس اور انگریزوں کی حکومت اور ان کی اتحادی حکومتیں ہیں جیسا کہ ہائیبل میں لکھا ہے کہ ” اے جوج روس اورٹو بالسک کے بادشاہ اور ماجوج جو جزیروں میں امن سے حکومت کرتے ہو ۳۴۔’’یہ دونوں قومیں اپنے حلیفوں کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں اور ان کا عروج جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے نزول مسیح موعود کے بعد مقد ر تھا۔پس ان کا عروج اپنی ذات میں بھی دلالت کر رہا ہے کہ مسیح موعود نازل ہو چکا ہے۔ایک تغیرّ اس زمانے کی سیاسی حالت میں رسول کریم ﷺنے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت مزدوروں کی طاقت بہت بڑھ جائے گی۔جیسا کہ حذیفہ ابن لیمانؓ کی روایت میں جو أبو نعیم نے حلیہ میں نقل کی ہے مذکور ہے کہ اشراط ساعت میں سے رسول کریمﷺ نے ایک یہ شرط بھی بیان کی ہے کہ اس وقت غریب برہنہ لوگ بادشاہ ہو جائیں گے اور برہنہ سے مراد اس جگہ نسبتی طور پر برہنہ ہے اور امراء کے مقابلہ میں غرباء اپنے لباس کی کمی کی وجہ سے برہنہ ہی کہلاتے ہیں۔یہ علامت بھی پوری ہو چکی ہے نیابتی حکومت کی ترقی کے ساتھ ساتھ غرباء کی حکومت بڑھتی جاتی ہے اور وہ بادشاہ بن رہے ہیں مزدور جماعت کی طاقت کے آگے بادشاہوں کے دل کانپ رہے ہیں اور کوئی جماعت خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو اپنے قیام کو