انوارالعلوم (جلد 7) — Page 385
۳۸۵ کی بے کسی کا اظہار کیا جاتا ہے۔یہ تو عقائد کا حال ہے، اعمال کی حالت بھی کچھ کم قابل افسوس نہیں۔پچھتر ۷۵ فی صدی نماز روزہ کے تارک ہیں، زکوٰۃ اول تو لوگ دیتے ہی نہیں اور جو دیتے ہیں ان میں سے جو اپنی خوشی سے دیتے ہوں وہ شاید سو ۱۰۰میں سے دو نکلیں۔حج جن پر فرض ہے وہ اس کا نام نہیں لیتے اور جن کے لئے نہ صرف یہ کہ فرض نہیں بلکہ بعض حالات میں ناجائز ہے وہ اپنی رسوائی اور اسلام کی بدنامی کرتے ہوئے حج کے لئے جا پہنچتے ہیں اور جو تھوڑے بہت لوگ ان اعمال کو بجا لاتے ہیں وہ اس طرح بجا لاتے ہیں کہ بجائے ان احکام کی اصل غرض پوری ہونے کے ان کے لئے تو شاید وہ احکام موجب لعنت ہو تے ہوں گے، دوسروں کے لئے بھی باعث ذلت ہوتے ہیں، نماز کا ترجمہ تو عربی بولنے والے ملکوں کے سوا شاید ہی کوئی جانتا ہو، مگر وہ بے معنے نماز بھی جو لوگ پڑھتے ہیں ، اسے اس طرح چٹی سمجھ کر پڑھتے ہیں کہ رکوع اور سجدے میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور نماز میں اپنی زبان میں دعا مانگنا تو کفر ہی سمجھا جانے لگا ہے۔روزہ اول تو لوگ رکھتے نہیں اور جو لوگ رکھتے ہیں تو جھوٹ اور غیبت سے بجائے موجب ثواب ہونے کے وہ ان کے لئے موجب عذاب ہوتا ہے۔ورثہ کے احکام پسِ پشت دالے جاتے ہیں۔سود جس کا لینا خدا سے جنگ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے ، علماء کی مدد سے ہزاروں حیلوں اور بہانوں کے ساتھ اس کی وہ تعریف بنائی گئی ہے اور اس کے لئے ایسی شرائط لگا دی ہیں کہ اب شاید ہی کوئی سود کی لعنت سے محفوظ ہو، مگر باوجود اس کے مسلمانوں کو رفاہت اور دولت حاصل نہیں جو غیر اقوام کو حاصل ہے۔اخلاقِ فاضلہ جو کسی وقت مسلمانوں کا ورثہ اور ان کا حق سمجھے جاتے تھے اب مسلمانوں سے اس قدر دور ہیں جس قدر کُفر اسلام سے۔کسی زمانے میں مسلمانوں کا قول نہ ٹلنے والی تحریر سمجھا جاتا تھا اور اس کا وعدہ ایک نہ بدلنے والا قانون ، مگر آجکل مسلمان کی بات سے زیادہ کوئی اور غیر معتبر قول نہیں ملتا اور اس کے وعدے سے زیادہ اور کوئی بے حقیقت شے نظر نہیں آتی۔وفا بے نام ہوگئی۔راستی کھوئی گئی۔حقیقی جرأت مٹ گئی۔غداری جھوٹ ، خیانت اور بزدلی اور تہوّر نے اس کی جگہ لے لی۔نتیجہ یہ ہوا کہ سب دنیا دشمن ہے۔تجارتیں تباہ ہو گئی ہیں ، رُعب مٹ گیا ہے۔علم جو کسی وقت مسلمانوں کا رفیق تھا اور ان کی رکاب ہاتھ سے نہ چھوڑتا تھا آج ان سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔