انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 386

۳۸۶ دعوۃالامیر صوفیاء کا حال خراب ہے۔وہ دین کو بے دینی اور قانون کو اباحت بنا رہے ہیں، علامء شقاق و مخالفت پھیلا نے کے علاوہ اپنے اقوال کو خدا اور رسول کے اقوال ظاہر کر کے اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کا ٹنے میں مشغول ہیں۔امراء گو دوسری اقوام کے امراء کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے، مگر پھر بھی اپنی تھوڑی سی پونجی اور دولت پر اس قدر مغرور ہیں کہ دین سے ان کا کوئی سروکار ہی نہیں، دینی کاموں میں حصہ لینا تو در کنار ، ان کے دلوں میں دین کا ادب تک باقی نہیں رہا۔یورپ کے امراء میں مسیحیت کے مبلغ مل سکتے ہیں مگر مسلمان امراء میں دین کے ابتدائی مسائل جاننے والے بھی بہت کم ملیں گے ، حکام کا یہ حال ہے کہ رشوت ستا نی اور ظلم ان کا شیوہ ہے، وہ حکومت کو خدمت کا ایک ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ خدائی کا کوئی جزو خیال کرتے ہیں۔بادشاہ اپنی عیاشی میں مست ہیں اور وزراء غدّاری اور خیانت میں۔عوام الناس وحشیوں سے بد تر ہو رہے ہیں اور لاکھوں ہیں جو ترجمہ جاننا تو الگ رہا کلمہ تو حید اور کلمۂ رسالت کے الفاظ تک منہ سے ادا نہیں کر سکتے۔وہ اسلام جو ایک اژدھے کی طرح دیگر ادیان کو کھاتا جارہا تھا آج وہ مردہ کی طرح پڑا ہے اور کتے اور چیلیں اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں، اپنے کاموں اور اپنی ضروریات کے لئے سب کو روپیہ مل جاتا ہے مگر دین کی ضروریات اور اس کی اشاعت کے لئے ایک پیسہ نکالنا دو بھر ہے۔بیہودہ بکواس اور لطیفہ گوئیوں اور دوستوں کی مجالس مقرر کر نے کے لئے کافی وقت ہے مگر خدا کا کلام پڑھنے اور اس کو دوسروں تک پہنچا نے کے لئے ایک منٹ کی بھی فرصت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز نہ پڑھنے والے کو نہیں، جماعت میں نہ شریک ہونے والے کو نہیں بلکہ صرف عشاء اور صبح کی جماعت میں شریک نہ ہونے والے کو منافق قرار دیتے ہیں اور باوجود رحم مجسم ہونے کے فرماتے ہیں وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبُ ثُمَّ اٰمُرَ بِا لصَّلٰوۃِ فَیُؤَذَّنُ لَھَا ثُمَّ اٰمُرَ رَجُلاً فَیَؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ اُخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ فُاُحَرِّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوْتَھُمْ (بخاری کتاب الاذان باب وجوب صلوٰۃ الجماعۃ)مجھے اسی خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرا دل چاہتا ہے کہ لکڑیاں اکٹھی کروں، پھر نماز کے لئے اذان کا حکم دوں پھر اپنی جگہ کسی اور کو امام مقرر کروں پھر ان لوگوں کے گھروں پر جا کر جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے مکینوں سمیت مکانوں کو جلادوں، لیکن آج مسجد میں قدم رکھنا تو بڑی بات ہے عیدین کے سوا کروڑوں مسلمانوں کو نماز کی ہیفرصت نہیں ملتی اور اِن میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں جو بلا شروط نماز کے پورا کرنے کے محض دکھاوے کے لئےنمازشروع