انوارالعلوم (جلد 7) — Page 20
انوار العلوم - جلدے ۲۰ خطاب جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء تیسرا جرم کینہ ہے۔ جب ایک شخص کسی کے متعلق برائی دیکھتا ہے تو اسے وہیں (۳) کینہ نہیں بھلا دیتا بلکہ دل میں رکھ لیتا ہے۔ مگر جب تک یہ جرم دل سے نہ نکلے نفس پاک نہیں ہو سکتا اور اسے دل میں رکھنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ کینہ نفس کا ایک گند ہے اور اس کو دل میں رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی جیب میں پاخانہ رکھے۔ اس گند سے فائدہ کیا؟ ہر ایک کام کسی فائدہ اور ضرورت سے کیا جاتا ہے مگر کینہ رکھنے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ فائدہ تو کچھ نہیں ہاں نقصان ہوتا ہے۔ جب کسی کے متعلق برائی اپنے دل میں رکھو گے تو اس پر کڑھو گے اور جب کڑھو گے تو طبی مسئلہ ہے کہ بیمار ہو جاؤ گے ۔ دیکھو جب بچے ایک دوسرے سے چڑتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے ایسا نہ کرو۔ مگر عجیب بات ہے بچوں کو سمجھانے والے خود دوسروں کا کینہ دل میں رکھ کر چڑتے ہیں اور اس طرح ان کی طبیعت میں چڑ چڑاہٹ پیدا ہو جاتی ہے ، راہٹ پیدا ہو جاتی ہے اور بد خلقی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دوسرے کو نقصان پہنچانے کے خیال سے کوئی اپنی ناک کاٹ لے مگر اس سے دوسروں کا کیا نقصان ہو گا۔ پس یا د رکھو کہ کینہ جیسی لغو چیز اور کوئی نہیں مگر اکثر لوگ اس میں مزا حاصل کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کہ کہتے ہی۔ کوئی چیتا تھا اس کو تازہ گوشت نہیں کھلایا جاتا تھا۔ ایک دفعہ اس کے قریب سل پڑی ہوئی تھی جس پر ان نے زبان لگائی اور خون نکل آیا ۔ اس تازہ خون کو اس نے چوس لیا اور اس کا اسے ایسا مزہ آیا کہ وہ برابر اپنی زبان سل پر رگڑتا رہا اور زبان کا خون چوستا رہا اور مزہ لیتا رہا آخر اس کی زبان ہی کٹ گئی۔ اس طرح کینہ رکھنے والے کی حالت ہوتی ہے وہ سمجھتا ہے کہ دوسرے کو نقصان پہنچا رہا ہے مگر دراصل وہ اپنی ہی جان کو کھا رہا ہوتا ہے مومن کو چاہئے کہ اس عیب کو اپنے پاس نہ آنے دے یہ ایک باطنی گند ہے اس کو دور کر دینا چاہئے کیونکہ اس سے انسانی صحت اور اخلاق تباہ ہوتے ہیں۔ چهارم ایک ذاتی عیب جہالت ہے ۔ یاد رکھو کہ علم کے بغیر کوئی کام دنیا میں (۴) جهالت نہیں چلتا اور چھوٹی سے چھوٹی بات بھی بغیر علم کے نہیں آسکتی۔ میرا تو یہ خیال ہے کہ علم تو بری سے بری بات کا بھی اچھا ہی ہوتا ہے۔ دیکھو پولیس والے کس طرح چوری کا سراغ نکالتے ہیں اسی طرح کہ وہ جانتے ہیں چور اس طرح چوری کرتے ہیں تو کوئی علم برا نہیں ہوتا بلکہ اس کا برا استعمال برا ہوتا ہے۔ پس علم حاصل کرنے کے لئے ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے ۔ رسول کریم ﷺ کی طرف ایک قول منسوب ہے ۔ کہ اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ كَانَ بِالصِّينِ