انوارالعلوم (جلد 7) — Page 373
انوار العلوم جلدے میں بھی آپس میں ہو سکتی ہے۔ ۳۷۳ دعوت الامير یہ ظالمانہ جنگ جو بعض دفعہ ڈاکہ اور خونریزی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتی بد قسمتی سے غیر مذاہب سے مسلمانوں میں آئی ہے ورنہ اسلام میں اس کا نام و نشان تک نہیں تھا اور سب سے زیادہ اس عقیدے کی اشاعت کا الزام مسیحیوں پر ہے جو آج سب سے زیادہ اس کی وجہ سے مسلمانوں پر معترض ہیں۔ قرون وسطی میں اس قسم کی مذہبی جنگوں کا اس قدر چر چا تھا کہ سارا یورپ اسی قسم کی جنگوں میں مشغول رہتا تھا اور ایک طرف یہ مسلمانوں کی سرحدوں پر اسی طرح چھاپے مارتے رہتے تھے جس طرح آج نیم آزاد سرحدی قبائل ہندوستان کی سرحدوں پر حملے کر رہے ہیں اور دوسری طرف یورپ کی ان قوموں پر حملے کر رہے تھے جو اس وقت تک مسیحیت میں داخل نہیں ہوتی تھیں اور ان ظالمانہ حملوں میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی سمجھتے تھے ۔ معلوم ہوتا ہے جیسا کہ قاعدہ ہے غصے میں آکر انسان کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے مسلمانوں نے مسیحیوں کی ان حرکات سے متاثر ہو کر خود بھی انہیں کی طرح چھاپے مارنے شروع کر دیتے ہیں اور اپنے مذہب کی تعلیم کو آخر کار بالکل ہی بھلا بیٹھے ہیں حتی کہ وہ زمانہ آگیا کہ وہی جو ان کے استاد تھے ان پر اعتراض کرنے لگ گئے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ باوجود اعتراضوں کے پھر بھی مسلمان نہیں سمجھتے ۔ آج ساری دنیا میں اسلام کے خلاف ہی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے مگر مسلمانوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ برابر دشمن کے ہاتھ میں تلوار پکڑا رہے ہیں کہ اسے لو اور اسلام پر حملہ کرو۔ وہ نہیں دیکھتے کہ یہ ظالمانہ جنگیں جن کا نام جہاد رکھا جاتا ہے اسلام کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان پہنچا رہی ہیں ۔ وہ کون سی طاقت ہے جس نے اس ہتھیار کے ذریعے فتح پائی ہو ۔ جنگ میں تعداد کام نہیں آیا کرتی بلکہ ہنر اور انتظام اور تعلیم اور سامان اور جوش اور دوسری قوموں کی ہمدردی کام آتی ہے ۔ بعض چھوٹی چھوٹی قو میں ان امور کی وجہ سے بڑی بڑی حکومتوں کو شکست دے دیتی ہیں اور اگر یہ باتیں نہ ہوں تو بڑے بڑے لشکر بھی کمزور اور بے فائدہ ہوتے ہیں۔ پس بہتر ہوتا کہ مسلمان اپنی حفاظت کیلئے ان سامانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے نہ کہ جہاد کے غلط معنی لے کر اسلام کو بد نام کرتے اور خود بھی نقصان اٹھاتے کیونکہ جب لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ کوئی قوم اپنے مذہب کی آڑ میں دنیاوی جنگیں کرتی ہے تو سب اقوام اس کی مخالفت میں اکٹھی ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ اس سے ایک ایسا خطرہ محسوس کرتی ہیں جس سے عادل سے عادل حکومت بھی محفوظ نہیں رہ سکتی ہر