انوارالعلوم (جلد 7) — Page 372
۳۷۲ کرنے کا حکم دیتا ہے جو دین کے نام سے مسلمانو ں سے جنگ کریں اور مسلمانوں کو جبراً اسلام سے پھیرنا چاہیں اور ان کے متعلق بھی یہ حکم دیتا ہے کہ زیادتی نہ کرو بلکہ اگر وہ باز آجائیں تو تم بھی اس قسم کی لڑائی کو چھوڑ دو۔تو پھر یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کا حکم ہے کہ غیر مذاہب والوں سے اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے جنگ کرو۔اللہ تعالیٰ تو مختلف مذہبوں کے مٹا نے کے لئے نہیں بلکہ مختلف مذاہب کی حفاظت کے لئے جنگ کا حکم دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ o الَّذِیْنَ أُخْرِجُوْا مِن دِیَارِہِمْ بِغَیْْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ یَّقُولُوا رَبُّنَا اللہُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللہِ کَثِیْراً وَلَیَنصُرَنَّ اللہُ مَن یَّنصُرُہُ إِنَّ اللہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ o(الحج آیت ۴۱-۴۰) یعنی اجازت دی گئی ہے ان لوگوں کو جن سے بلاوجہ جنگ کی جاتی ہے جنگ کی اس لئے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰٰ ان کی مدد پر قادر ہے یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے گھروں سے بلا قصور نکالے گئے ہیں۔ان کا کوئی قصور نہ تھا سوا اس کے کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہما را رب ہے اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے ذریعہ سے بعض کا ہاتھ نہ روکتا تو مسیحیوں کے معبد اور راہبوں کے خلوت خانے اور یہود کی عبادت کی جگہیں اور مسجد یں جن میں اللہ تعالیٰٰ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے گرادی جاتیں اور اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، اللہ تعالیٰ طاقتور ہے، غالب ہے۔یہ آیات کس قدر کھلے الفاظ میں بتاتی ہیں کہ مذہبی جنگیں تبھی جائز ہیں جبکہ کوئی قوم رَبُّنَا اللہُ کہنے روکے یعنی دین میں دخل دے اور ان کی غرض یہ نہیں کہ دوسری اقوام کے معابد ان کے ذریعہ سے گرائے جائیں اور ان سے ان کا مذہب چُھڑوایا جائے یا ان کو قتل کیا جائے بلکہ ان کی غرض یہ ہے کہ ان کے ذریعے سے تمام مذاہب کی حفاظت کی جائے اور سب مذاہب کے معابد کو قائم رکھاجائے اور یہی غرض اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے کیونکہ اسلام دنیا میں بطور شاہد اور محافظ کے آیا ہے نہ کہ بطور جابر اور ظالم کے۔غرض جہاد جس کی اسلام نے اجازت دی ہے، یہ ہے کہ اس قوم کے خلاف جنگ کی جائے جو اسلام سے جبراًلوگوں کو پھیرے یا اس میں داخل ہو نے سے جبراً باز رکھے اور اس میں داخل ہونے والوں کو صرف اسلام کے قبول کرنے کے جرم میں قتل کرے، اس قوم کے سوا دوسری قوم سے جہاد نہیں ہو سکتا، اگر جنگ ہو گی تو صرف سیاسی اور مُلکی جنگ ہوگی جو دو مسلمان قوموں