انوارالعلوم (جلد 7) — Page 367
انوار العلوم جلدے ۳۶۷ دعوت الامير يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِينَا وَإِذَ الَّا نَيْنَهُمْ مِنْ لَدُنَا أَجْرًا عَظِيمًا وَلَهَدَيْنَهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمَا وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللهِ وَكَفَى بِاللهِ عَلِيمًا (۲۸۔ یعنی اگر لوگ اسی طرح عمل کرتے جس طرح ان سے کہا جاتا ہے تو ان کیلئے اچھا ہوتا اور ان کے دلوں کو یہ بات مضبوط کر دیتی اور اس صورت میں ہم ان کو بہت بڑا اجر دیتے اور ہم ان کو صراط مستقیم دکھا دیتے اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر ہم نے انعام کیا ہے ۔ یعنی نبیوں میں اور صدیقوں میں اور شہیدوں اور صلحاء میں - اور یہ لوگ نہایت ہی عمدہ دوست ہیں یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ خوب جاننے والا ہے۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہ منعم علیہ گروہ کا راستہ دکھانے سے سے مراد نبیوں، صدیقوں شہیدوں اور صلحاء کے گروہ میں شامل کرنا ہے ۔ پس جب کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کی معرفت ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہم قریباً چالیس دفعہ دن میں اس سے صراط مستقیم کیلئے دعا کریں اور وہ خود صراط مستقیم کی تشریح یہ کرتا ہے کہ نبیوں ، صدیقوں ، شہداء اور صلحاء کے گروہ میں شامل کر دیا جائے تو کس طرح ممکن ہے کہ اس امت کیلئے نبوت کا دروازه مِن كُلِّ الْوُجُوهِ بند ہو ۔ کیا یہ ہنسی نہیں بن جاتی اور کیا اللہ تعالیٰ کی شان تمسخر سے بالا نہیں کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ایک طرف تو ہم پر زور دے کہ مجھ سے نبیوں ، صدیقوں ، شہداء اور صلحاء کے انعامات مانگو اور دوسری طرف صاف کہہ دے کہ میں نے تو یہ انعام اس امت کیلئے ہمیشہ کے واسطے روک دیا۔ حَاشَا وَكَلَّا اللہ تعالیٰ کی ذات تمام عیبوں سے پاک ہے اور تمام بدیوں سے منزہ ہے اگر اس نے یہ انعام روک دیا ہوتا تو وہ کبھی سورہ فاتحہ میں منعم علیہ گروہ کے راستے کی طرف راہنمائی کی دعا نہ سکھاتا اور پھر کبھی اس راستہ کی تشریح یہ نہ فرماتا کہ ہمارے اس رسول کی اتباع سے انسان نبیوں کے گروہ میں بھی شامل ہو جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سورۃ نساء کی آیت میں مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ہے نہ کہ مِنَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ پس اس سے یہ مراد ہے کہ اس امت کے افراد نبیوں کے ساتھ ہوں گے نہ کہ نبیوں میں شامل ہوں گے لیکن اس اعتراض کے پیش کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ اس آیت میں صرف نبیوں کا ہی ذکر نہیں بلکہ ان کے ساتھ ہی صدیقوں ، شہداء اور