انوارالعلوم (جلد 7) — Page 362
انوار العلوم جلد ہے ۳۹۲ دعوت الامير اور سید الانبیاء کی آمد پر یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اب ہماری روحانی ترقیات کیلئے نئے دروازے کھل جائیں گے اور اپنے محبوب رب العالمین کے اور بھی قریب ہو جائیں گے لیکن نتیجہ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ یہ نکلا کہ آپ نے آکر جو دروازے پہلے کھلے تھے ان کو ان کو بھی بند کر دیا۔ کیا کوئی مومن رسول کریم کی نسبت اس قسم کا خیال ایک آن واحد کے لئے بھی اپنے دل میں آنے دے سکتا ہے؟ کیا کوئی آپ کا عاشق ایک ساعت کیلئے بھی اس عقیدہ پر قائم رہ سکتا ہے؟ بخدا آپ برکت کا ایک سمند ر تھے اور روحانی ترقی کا ایک آسمان تھے جس کی وسعت کو کوئی نہیں پاسکتا۔ آپ نے رحمت کے دروازے بند نہیں کر دیئے بلکہ کھول دیتے ہیں اور آپ میں اور پہلے نبیوں میں یہ فرق ہے کہ ان کے شاگرد تو محد ثیت تک پہنچ سکتے تھے اور نبوت کا مقام پانے کیلئے ان کو الگ تربیت کی ضرورت ہوتی تھی مگر آنحضرت ا کی شاگردی میں ایک انسان نبوت کے مقام تک پہنچ جاتا ہے اور پھر بھی آپ کا امتنی رہتا ہے اور جس قدر بھی ترقی کرے آپ کی غلامی سے باہر نہیں جا سکتا۔ اس کے درجہ کی بلندی اسے امتی کہلانے آزاد نہیں کر دیتی بلکہ وہ اپنے درجہ کی بلندی کے مطابق آپ کے احسان کے بار کے نیچے دیتا جاتا ہے کیونکہ آپ قرب کے اس مقام ، اس مقام پر پہنچ پر پہنچ گئے ہیں جس تک دوسروں کو رسائی نہیں ہوئی اور آپ نے اس قدر بلندی کو طے کر لیا ہے جس تک دوسروں کا ہاتھ بھی نہیں پہنچا اور آپ کی ترقی اس سرعت سے جاری ہے کہ واہمہ بھی اس کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔ پس آپ کی امت نے بھی آپ کے قدم بڑھانے سے قدم بڑھایا ہے اور آپ کے ترقی فرمانے سے ترقی کی ہے۔ رسول کریم ﷺ کا یہ مقام جو اوپر بیان ہوا ہے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اس قسم کی نبوت کا سلسلہ آپ کے بعد جاری سمجھیں کیونکہ اس میں آپ کی عزت ہے اور اس کے بند کرنے میں آپ کی سخت ہتک ہے۔ کون نہیں سمجھ سکتا کہ لائق استاد کی علامت یہ ہے کہ اس کے لائق شاگرد ہوں اور بڑے بادشاہ کی علامت یہ ہے کہ اس کے ماتحت بڑے بڑے حکمران ہوں۔ اگر کسی استاد کے شاگر دادنی درجے کے ہیں تو اسے کوئی لائق استاد نہیں کہہ سکتا اور اگر کسی بادشاہ کے ماتحت ادنی درجے کے لوگ ہوں تو اسے کوئی بڑا بادشاہ نہیں کہہ سکتا۔ شہنشاہ دنیا میں عزت کا لقب ہے نہ کہ ذلت اور حقارت کا اسی طرح وہ نبی ان نبیوں سے بڑا ہے جس کے امتی نبوت کا مقام پاتے ہیں اور پھر بھی امتی ہی رہتے ہیں۔