انوارالعلوم (جلد 7) — Page 361
۳۶۱ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت بالاہوتی ہو۔اے امیر ! اللہ تعالیٰ آپ کے دل کو مہبط انوار بنائے اور آپ کے سینے کو حق کی قبولیت کے لئے وسیع کرے۔وہی نبوت پہلے نبی کے سلسلے کو ختم کر سکتی ہے جو شریعت والی نبوت ہو اور وہی پہلے نبی کی شریعت کو منسوخ کر سکتی ہے جو بِلا واسطہ حاصل ہو، لیکن جو نبوت کہ پہلے نبی کے فیض سے اور اس کی اتباع سے حاصل ہو اور جس کی غرض پہلے نبی کی نبوت کی اشاعت ہو اور اُ س کی عظمت اور اُ س کی بڑائی کا اظہار ہو، وہ پہلے نبی کی ہتک کرنے والی نہیں بلکہ اس کی عزت کو ظاہر کرنے والی ہے اور اس قسم کی نبوت قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور عقلِ سلیم اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس اُمت میں حاصل ہو سکتی ہے اور اگر یہ نبوت اس اُمت کو حاصل نہ ہو تو پھر اس امت کو دوسرے نبیوں کی اُمتیوں پر کوئی فضیلت نہیں رہتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ محدث حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں بھی بہت سے گزرے ہیں۔(بخاری کتاب المناقب باب مناقب عمر بن الخطاب ) پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ بھی انسان کو محدثیت کے مقام تک ہی پہنچا سکتی ہے تو پھر آپؐ کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت رہی اور آپؐ سید وُلد آدم اور نبیوں کے سردار کیونکر ٹھہرے۔خیر الرسل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپؐ میں بعض ایسے کمالات پائے جائیں جو پہلے نبیوں میں نہیں پائے جاتے تھے اور ہمارے نزدیک یہ کمال آپؐ میںہی ہے کہ پہلے انبیاء کے امتی اُن کی قوتِ جذب سے صرف محدثیت کے مقام تک پہنچ سکتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی مقام نبوت تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور یہی آپ کی قوتِ قدسیہ کا کمال ہے جو ایک مومن کے دل کو آپؐ کی محبت اور آپؐ کے عشق کے جذبہ سے بھر دیتا ہے۔اگر آپؐ کے آنے سے اس قسم کی نبوت کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے تو پھر آپؐ کی مدد دنیا کے لئے ایک عذاب بن جاتی ہے اور قرآن کریم کا وجود بے فائدہ ہوجاتا ہے کیونکہ اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ آپؐ کی بعثت سے پہلے تو انسان بڑے بڑے درجوں تک پہنچ جاتا تھا مگرآپؐ کی بعثت کے بعد وہ اُن درجوں کے پانے سے روک دیا گیا اور یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم سے پہلی کتب تو نبوت کا درجہ پانے میں مُمّد ہوا کرتی تھیں یعنی اُن کے ذریعہ سے انسان اس مقام تک پہنچ جاتا تھا جہاں سے اللہ تعالیٰ اُسے نبوت کے مقام کی تربیت کے لئے چُن لیتا تھا ،لیکن قرآن کریم پر عمل کر کے انسان اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتا، اگر فی الواقع یہ بات ہو تو اللہ تعالیٰ سچے پرستاروں کے دل خُون ہو جائیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جائیں کیونکہ وہ تو رحمۃ للعالمین