انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 350

انوار العلوم جلد ہے ۳۵۰ دعوة الامير کہا جاتا ہے کہ اگر قرآن کریم اور احادیث سے حضرت مسیح کی وفات بھی ثابت ہوتی ہو تب بھی احادیث میں چونکہ مسیح ابن مریم کے آنے کی خبر دی گئی ہے انہیں کی آمد پر یقین رکھنا چاہئے کیونکہ کیا اللہ تعالی قادر نہیں کہ ان کو پھر زندہ کر کے دنیا کی اصلاح کیلئے بھیج دے اور ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم گویا اللہ تعالیٰ کی قدرت کے منکر ہیں مگر بات یہ نہیں بلکہ اس کے بالکل بر خلاف ہے ۔ ہم خدا تعالیٰ کی قدرت کے انکار کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی قدرت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اس امر کے قائل ہیں کہ حضرت مسیح ناصری کو خدا تعالیٰ زندہ کر کے نہیں بھیجے گا بلکہ اس امت کے ایک فرد کو اس نے مسیح موعود بنا کر بھیج دیا ہے ۔ ہم نہیں سمجھ سکتے اور نہ ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی شخص بھی جو پورے طور پر اس امر پر غور کرے گا تعلیم کرے گا کہ مسیح کا دوبارہ زندہ کر کے بھیجنا اللہ تعالی کے قادر ہونے کی علامت ہے ۔ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ جو دولت مند ہوتا ہے وہ مستعمل جامہ کو الٹوا کر نہیں سلوایا کرتا بلکہ اسے اتار کر ضرورت پر اور نیا کپڑا سلواتا ہے ۔ غریب اور نادار لوگ ایک ہی چیز کو کئی کئی شکلوں میں بدل بدل کر پہنتے ہیں اور اپنی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں۔ کب اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ایسا تنگ ہوا تھا کہ جب اس کے بندوں کے بندوں کو ہدایت اور رہنمائی کی حاجت ہوئی ہوئی تو اسے کسی وفات یافتہ نبی کو زندہ کر کے بھیجنا پڑا وہ ہمیشہ بندوں کو ہدایت کیلئے انہی کے زمانے کے لوگوں میں سے کسی کو منتخب کر کے ان کی اصلاح کیلئے بھیجتا رہا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے آنحضرت ا کے زمانے تک ایک دفعہ بھی اس نے ایسا نہیں کیا کہ کسی پچھلے نبی کو زندہ کر کے دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجا ہو اس امر پر تب وہ مجبور ہو جب کسی زمانے - زمانے کے لوگوں کے دلوں کی صفائی اس کی قدرت سے باہر ہو جائے اور اس کی حکومت انسانوں پر سے اٹھ جائے لیکن چونکہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اس لئے یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک وفات یافتہ نبی کو جنت سے نکال کر دنیا کی اصلاح کیلئے بھیج دے ۔ وہ قادر مطلق ہے جب اس نے مسیح علیہ السلام کے بعد محمد رسول اللہ جیسا انسان پیدا کر دیا تو اس کی طاقت سے یہ بعید نہیں کہ ایک اور شخص مسیح علیہ السلام جیسا بلکہ ان سے افضل پیدا کر دے ۔ غرض مسیح ناصری نبی کے دوبارہ دنیا میں آنے کا انکار ہم اس وجہ سے نہیں کرتے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو قادر نہیں سمجھتے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو قادر سمجھتے ہیں کہ وہ جب چاہے اپنے بندوں میں سے کسی کو ہدایت کے منصب پر کھڑا کر دے اور اس کے ذریعے سے