انوارالعلوم (جلد 7) — Page 339
۳۳۹ دعوة الا میر ہماری بہتری کی فکر میں صرف ہوئے اور اس کی راتیں ہمارے لیے جاگتے کٹیں- حتیٰ کہ کھڑے کھڑے اس کے پاوں سوج جاتے اور خود بے گناہ ہوتے ہوئے ہمارے گناہوں کو دور کرنے کے لیے اور ہمیں عذاب سے بچانے کے لیے اس نے اس قدر گریہ و زاری کی کہ اس کی سجدہ گاہ تر ہوگئی اور اس کی رقّت ہمارے لیے اس قدر بڑھ گئی کہ اس کے سینے کی آواز ابلتی ہوئی دیگ سے بھی بڑھ گئی- اس نے خدا تعالیٰ کے رحم کو ہمارے لیے کھینچا اور اس کی رضاء کو ہمارے لیے جذب کیا اور اس کے فضل کی چادر ہم کو اڑھائی اور اس کی رحمت کا لبادہ ہمارے کندھوں پر ڈال دیا اور اس کے وصال کی راہیں ہمارے لیے تلاش کیں اور اس سے اتحاد کا طریق ہمارے لیے دریافت کیا اور ہمارے لیے وہ سہولتیں بہم پہنچائیں کہ اس سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کی لیے بہم نہ پہنچائی تھیں- ہمیں کفر کے خطاب نہایت بھلے معلوم ہوتے ہیں بہ نسبت اس کے ہم اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے پالنے والے اور اپنے زندگی بخشنے والے اور اپنی حفاظت کرنے والے اور رزق دینے والے اور اپنے علم بخشنے والے اور اپنے ہدایت عطا کرنے والے خدا کے برابر مسیح ناصری کو درجہ دیں اور یہ خیال کریں کہ جس طرح وہ آسمانوں پر بلا کھانے اور پینے کے زندہ ہے` مسیح ناصری بھی بلا حوائج انسانی کو پورا کرنے کے آسمان پر بیٹھا ہے- ہم مسیح علیہ السلام کی عزت کرتے ہیں مگر صرف اس لیے کہ وہ ہمارے خدا کا نبی ہے` ہم اس سے محبت کرتے ہیں مگر صرف اس لیے کہ خدا سے اسے محبت تھی اور خدا کو اس سے محبت تھی- اس سے ہمارا سب تعلق طفیلی ہے- پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی خاطر ہم اپنے خدا کی ہتک کریں اور اس کے احسانوں کو فراموش کر دیں اور مسیحی پادریوں کو جو اسلام اور قرآن کے دشمن ہیں مدد دیں اور ان کو یہ کہنے کا موقع دیں کہ دیکھو وہ جو زندہ آسمان پر بیٹھا ہے کیا وہ خدا نہیں- اگر وہ انسان ہوتا تو کیوں باقی انسانوں کی طرح مر نہ جاتا` ہم اپنے منہ سے کسطرح خدا تعالیٰ کی توحید پر حملہ کریں اور اپنے ہاتھ سے کیونکر اس کے دین پر تبر رکھدیں` اس زمانے کے مولوی اور عالم جو چاہیں ہمیں کہیں اور جس طرح ہم سے سلوک کریں اور کروائیں- خواہ ہمیں پھانسی دیں` خواہ سنگسار کریں ہم سے تو مسیح کی خاطر خدا نہیں چھوڑا جاسکتا اور ہم اس گھڑی سے موت کو ہزار درجہ بہتر سمجھتے ہیں جب ہماری زبانیں یہ کفرکا کلمہ کہیں کہ ہمارے خدا کے ساتھ وہ بھی زندہ