انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 338

۳۳۸ دعوة الا میر ہمارا دوسرے لوگوں سے اختلاف شاید جناب عالی حیران ہوں کہ جب سب عقائد اسلام کو ہم مانتے ہیں تو پھر ہم میں اور دوسرے لوگوں میں کیا اختلاف ہے اور بعض علماء کو ہمارے خلاف اس قدر جوش اور تعصب کیوں ہے اور کیوں وہ ہم پر کفر کا فتوی لگاتے؟ سو اے امیر والا شان! اللہ تعالیٰ آپ کو شرور دنیا سے محفوظ رکھے اور اپنے فضل کے دروازے آپ کے لیے کھول دے! اب میں وہ اعتراض بیان کرتا ہوں جو ہم پر کئے جاتے ہیں اور جن کے سبب ہمیں اسلام سے خارج بیان کیا جاتا ہے- ۱ - ہمارے مخالفوں کا سب سے پہلا اعتراض تو ہم پر یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح ناصری ؑ کو وفات یافتہ مانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس طرح ہم حضرت مسیح کی ہتک کرتے ہیں اور قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں اور رسول کریم ﷺکے فیصلے کو رد کرتے ہیں` لیکن گو یہ بات تو بالکل حق ہے کہ ہم حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو وفات یافتہ تسلیم کرتے ہیں` لیکن یہ درست نہیں کہ ہم اس طرح مسیح ؑ کی ہتک کرتے ہیں اور قرآن مجید کو جھٹلاتے ہیں اور رسول کریم ﷺکے فیصلے کو رد کرتے ہیں کیونکہ ہم جس قدر غور کرتے ہیں ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزامات ہم پر مسیح ؑ کے وفات یافتہ ماننے سے عائد نہیں ہوتے بلکہ اس کے خلاف اگر ہم ان کو زندہ مانیں تب یہ الزامات ہم پر لگ سکتے ہیں- ہم لوگ مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان ہونے کے ہمارا خیال سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے رسول ﷺکی عزت کی طرف جاتا ہے اور گو ہم سب رسولوں کو مانتے ہیں` لیکن ہماری محبت اور غیرت بالطبع اس نبی ؐکی لیے زیادہ جوش میں آتی ہے جس نے ہمارے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالا اور ہمارے بوجھوں کو ہلکا کرنے کے لیے اپنے سر پر بوجھ اٹھایا اور ہمیں مرتا ہوا دیکھ کر اس نے اس قدر غم کیا کہ گویا خود اپنے اوپر موت وارد کرلی اور ہمیں سُکھ پہنچانے کے لیے ہر قسم کے سکھوں کو ترک کیا اور ہمیں اوپر اٹھانے کے لیے خود نیچے کو جھکا- اس کے دن