انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 325

انوار العلوم جلدے ۳۲۵ پیغام صلح شاہ آباد اور آرا میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر ظلم کئے تو ہندوؤں نے ان کو نظر انداز کر دیا اور اگر مالا بار میں مسلمانوں کی طرف سے زیادتی ہوئی تو لیکچروں اور تقریروں کے ذریعہ اس کو پھیلانا شروع کر دیا ۔ اس طرح اپنے مظالم بھول جاتے ہیں اور دوسروں کے یاد رکھتے ہیں۔ غرباء کے حقوق کی حفاظت کی جائے تیسری بات یہ ہے کہ غرباء کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ چوتھی اور آخری بات یہ کانگریس میں ہر پارٹی اور خیال کے نمائندے لئے جائیں ہے کہ کا تمرین کو وسیع کر کے ہر قسم کے خیالات کے لوگوں کو داخل کیا جائے ۔ اب تو یہ حالت ہے کہ جس سے مخالفت ہو اس کو کانگریس سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے مگر یہ طریق درست نہیں ہے۔ کانگریس تب ہی سارے ملک کی قائم مقام ہو سکتی ہے کہ خیالات کے اختلاف کی پرواہ نہ کر کے ہر قسم کے خیالات والوں کو اپنے اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع دیا جائے حتی کہ ان کو بھی جن کو خوشامدی سمجھا جاتا ہے اور جو گورنمنٹ کے ملازم ہیں ان کو بھی شمولیت کا موقع دیا جائے ۔ اگر ان کے خیالات اچھے اور مفید ہوں تو کیوں نہ ان کو مانا جائے ۔ ورنہ جب تک کانگریس موجودہ شکل میں ہے اور جب تک اختلاف والوں کو نکالنے کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے اس وقت تک سارے ملک کی کانگریس نہیں کہلا سکتی۔ میرے نزدیک یہ تجاویز ہیں دیانتداری پر مبنی ان تجاویز صلح پر عمل کر کے فائدہ اٹھاؤ جن سے ہندو مسلمانوں میں جن ہے صلح اور اتحاد ہو سکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں ان کے متعلق کسی فریق کو یہ کہنے کا موقع نہیں ہے کہ کسی فرقہ کی پاسداری کی گئی ہے یا تعصب سے کام لیا گیا ہے۔ میں نے دیانتداری سے یہ تجاویز بیان کر دی ہیں۔ آخر میں میں نے ان ذمہ داریوں کو یا دولا کر جو حب الوطنی، اخلاق، روح اور انسانیت کی طرف سے آپ لوگوں پر عائد ہوتی ہیں اپیل کرتا ہوں کہ ان تجاویز پر غور کرو۔ اللہ تعالٰی ہمیں اور دوسرے سب لوگوں کو ان راہوں پر چلنے کی توفیق دے جن سے امن و امان قائم کر سکیں۔