انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 319

انوار العلوم جلدے ۳۱۹ پیغام صلح بھی نہیں سمجھتا کہ گورنمنٹ غلطیوں سے پاک ہوتی ہے غلطیوں سے محفوظ صرف خدا ہی کی ہستی ہوتی ہے ۔ نبی بھی غلطی کر سکتا ہے ۔ چنانچہ رسول کریم ال ہی فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص میرے پاس آئے جو اپنی چرب زبانی کی وجہ سے دوسرے کا حق مارے اور میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں تو وہ یہ نہ سمجھے کہ چونکہ میں نے فیصلہ کیا ہے اس لئے دوسرے کا حق اس کے لئے جائز ہو گیا بلکہ وہ اس کے لئے آگ کا ٹکڑا ہو گا اسے پس جب دنیاوی معاملات میں نبی بھی غلطی کر سکتا ہے تو ائمہ بھی کر سکتے ہیں اور جب ائمہ کر سکتے ہیں تو عام انسان بھی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں ۔ انگریز بھی چونکہ انسان ہیں اس لئے وہ بھی غلطیاں کرتے ہیں مگر وہ چونکہ ہمارے ملک کا حصہ ہیں اس لئے ایسے طور پر اپنے حقوق قائم کرنے چاہیں کہ ان کو علیحدہ نہ کریں اور اگر ان کو علیحدہ کریں گے تو وہ اس اتحاد کو توڑنے کی کوشش کریں گے جو ان کے خلاف کیا جائے گا پھر اس سے ایک اور خطرناک نتیجہ پیدا ہو گا اور وہ یہ کہ بدامنی پیدا ہو گی ۔ اب ہی دیکھ لو کیا نتائج نکل رہے ہیں پہلے تو کہا جاتا تھا کہ لوگ کیوں سول نافرمانی نہیں کرتے ۔ مگر میں سمجھتا ہوں ناگپور میں ہندو جو کچھ کر رہے ہیں اس کے متعلق یہی کہا جاتا ہو گا کہ وہ سول نافرمانی نہ کریں۔ اب اگر ناگپور میں ہندو اس بات پر سول نافرمانی کر کے گرفتار ہوتے گئے کہ مسجد کے پاس باجانہ بجانے کا جو حکم ہے اس کی خلاف ورزی کریں تو آخر گورنمنٹ ان کو چھوڑ دیگی پھر مسلمان نا فرمانی کرنا اور گرفتار ہونا شروع کر دیں ۔ پھر گورنمنٹ ان کو پکڑے گی۔ اس طرح گورنمنٹ کی تو وہی حالت ہوگی جو کہتے ہیں کہ ایک شخص کی ایک لڑکی کمہار کے گھر بیاہی ہوئی تھی اور دوسری مالی کے گھر ۔ جب بارش آتی تو وہ کہتا اگر بارش برس گئی تو ایک لڑکی نہیں اور نہ بری تو دوسری نہیں۔ پس سول نافرمانی کی وجہ سے ایسے حالات بھی پیش آسکتے ہیں اور اس طرح کبھی امن نہیں ہو سکتا۔ اب اگر ناگپور میں دو نو فریق باری باری نافرمانی شروع کر دیں اگر مسلمانوں کی بات گورنمنٹ مانے تو ہندو نافرمانی کریں جیسا کہ کر رہے ہیں اور جب ہندوؤں کی مانے تو مسلمان شروع کر دیں تو کس طرح صلح ہو سکتی ہے۔ دوسری بات صلح کے جب تک مذہبی صلح نہیں ہوتی ملکی صلح بھی نہیں ہو سکتی لئے کیا ہے کہ ج یہ ہے کہ جب تک مذہبی صلح نہ ہوگی ملکی صلح نہ ہو سکے گی۔ جو لوگ مذہب کو ماننے والے ہیں وہ کبھی ایسی صلح میں شامل نہ ہو سکیں گے جس سے مذہب خطرہ میں پڑتا ہو ۔ مذہبی صلح سے میری مراد یہ نہیں ہے کہ