انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 303

۳۰۳ ہو جائے گا یہ محض لوگوں میں جوش پیدا کرنے کے لئے تھا۔خلافت کا مسئلہ دوسرا مسئلہ خلافت کا مسئلہ تھا۔اس سے لوگوں میں جوش پیدا کیا گیا اور اس سے خوش کرنے میں بہت مدد بھی ملی۔اس کے متعلق میں آگے چل کر بیان کروں گا۔ہم پہلے ہندوستانی پھر ہندو یا مسلم ہیں یہ ایک خوشکن مگر بے معنی اور مضر فقرہ ہے تیرا مسئلہ اختلاف کا تھا جس کے متعلق کہا گیا کہ مذہبی اختلافات کو مٹا دینا چاہئے اور کہا گیا کہ پہلے ہم ہندوستانی ہیں اور پھر ہندو یا مسلمان اس لئے مذہبی اختلاف کو چھوڑ دینا چاہئے۔میں پہلے یہ بیان کر چکا ہوں کہ باو جود مذہبی اختلاف کےصلح اور اتحاد ہو سکتا ہے اور مذہب صلح میں روک نہیں ہو سکتا مگر اس میں شبہ نہیں کہ مذہب کی وجہ سے ایسے فساد پیدا ہوتے ہیں کہ جن کے دور کئے بغیر صلح نہیں ہو سکتی۔مگر کہا گیا کہ ان باتوں کو بالکل بھول جاؤ کیونکہ ہم لوگ پہلے ہندوستانی اور پھر ہندو یا مسلمان ہیں لیکن یہ فقرہ ایسا تھا جس کا مطلب کوئی نہ سمجھ سکتا تھا اور یہ اسی قسم کے فقروں کی طرح تھا جو بظاہر خوشنما نظر آتے ہیں لیکن عملاً ان کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی جیسے انجیل کایہ فقرہ ہے کہ اگر کوئی داہنی گال پر طمانچہ مارے تو دوسری بھی اس کی طرف پھیردے کو یہ بڑا خوشنمافقرہ ہے مگر اس پر کوئی عمل نہیں کر سکے گا۔مصر کے متعلق ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی پادری کھڑاوعظ کر رہا تھا اور اپنے وعظ میں رسول کریم ﷺکو گالیاں دے رہا تھا اس پر ایک مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے آگے بڑھ کر پادری کے منہ پر ایک تھپڑ مارا۔پادری نے کیا کیا یہی اسلامی تعلیم ہے اور اسے مارنے لگا۔مسلمان نے کہا اس وقت میں نے انجیل کی تعلیم پر عمل کیا ہے آپ کو چاہئے کہ دوسرا گال بھی میری طرف کر دیں تاکہ میں اس پر بھی تھپڑ مار دوں۔پادری نے کہا اس وقت میں تمہاری تعلیم پر عمل کروں گا اور اس کا بدلہ لونگا انجیل کی تعلیم پر عمل نہیں کروں گا۔اور دنیا میں ایسے مواقع آتے ہیں جبکہ سزا دینی ضروری ہوتی ہے اور اسلام کی یہی تعلیم ہے لیکن بظاہر انجیل کا یہ فقرہ بڑا خوشنمالگتا ہے جس پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔اسی طرح یہ فقرہ تھاجو بڑی کثرت سے استعمال کیا جا تا تھا کہ ہم پہلے ہندوستانی ہیں اور پھر ہندو یا مسلمان۔مگر اس کا مطلب کیا تھا کیا یہ پہلے ہندوستان نے پیدا کیا اور پھر ہندو یا مسلمان بنامگر یہ غلط ہے اور وقت کے لحاظ سے یہ فقرہ درست نہیں ہو سکتا کیونکہ مذہب کا تعلق خدا سے ہو تا ہے اور