انوارالعلوم (جلد 7) — Page 304
۳۰۴ خدا پہلے پیدا کر دیتا ہے پھر ملک سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔باقی رہی فضیلت کہ یہ کہنے والا کہتا ہے میں مذہب کو ادنی ٰسمجھتا ہوں اور ہندوستانیت کو اعلیٰ یہ بھی غلط ہے کیونکہ مذہب کے مقابلے میں وطنیت کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔ہندو اگر یہ فقرہ کہتے تھے تو اور بات ہے مگر مجھے مسلمانوں پر حیرت آتی تھی کہ وہ کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں۔اگر سوال درجہ کا ہے کہ کس کو قبول کرو تویہ صاف بات ہے کہ مذہب پر ملک کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔اور اگر کوئی کہتا ہے کہ مذہب ملک کی محبت میں روک ہے تو یہ بھی نہیں ہو سکتا اس لئے کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ہندوستانی پہلے ہوں اور پھر مسلمان - اور اگر کوئی یہ کہتا ہے اور مذہب پر ملک کو تر جیح دیتا ہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ مذہب وہاں ختم ہو جاتا ہے اور آگے وطنیت شروع ہوتی ہے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ مذہب کہتا ہے کہ نہ میں یہاں ختم ہوتاہوں اور نہ وہاں اس لئے یہی کہا جاسکتاہے کہ میں مسلمان ہندوستانی ہوں کیونکہ اسلام کہتا ہے کہ حب الوطن من الاثمان *۸ کہ وطن کی محبت ایمان میں داخل ہے۔ایسی اعلیٰ تعلیم کے ہوتے ہوئے کسی اور فقرہ کے ایجاد کی قطعاً ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ السلام کا ارشاد ہے کہ وطن سے محبت کرنا اسلام میں داخل ہے تو کوئی مسلمان مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے وطن کی محبت اس کے دل میں نہ ہو۔پس میں اگر وطن کے لئے کوئی قربانی کرنا چاہتا ہوں تو مجھے کسی بے معنی فقرہ کے ایجاد کی ضرورت نہیں۔میں پہلے بھی بیچ بھی اور بعد میں بھی مسلمان ہی ہوں اور اس حالت میں قربانی کر سکتا ہوں۔پس مسلمانوں کے لئے اس فقرہ کے ایجاد کی قطعا ًضرورت نہیں تھی۔یہ وہ تین باتیں تھیں جن پر اتحاد کی بنیاد رکھی گئی اور یہ تینوں عارضی اور غیر طبعی تھیں۔عارضی اتحاد کے بعد اختلاف کے موجبات اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس اتحاد کے اختلاف کا موجب کیا ہوا۔اول تو یہ کہ مسئلہ خلافت کا حل عجیب طرح ہو گیا۔خداتعالی ٰنے ترکوں کو یو نانیوں پر فتح دی اور یورپین طاقتوں نے سمجھ لیا کہ اگر اب ہم یونان کی طرف داری کرتے ہیں تو خطرناک جنگ شروع ہو جاتی ہے۔یہ طاقتیں چو نکہ پہلے ہی جنگ سے تھکی ہوئی تھیں اس لئے انہوں نے صلح کرادی ادھر ترکوں نے خلیفہ کے اختیارات کافیصلہ کر دیا اور کہہ دیا کہ خلیفہ کے لئے حکومت کی ضرورت نہیں اس طرح اس سوال کا عمل ہو گیا کہ خلیفہ کے لئے سیاست ضروری ہے۔پہلے یہ عمل کسی کے خیال میں نہ تھا کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں خلافت کے متعلق جوش نہ رہا۔