انوارالعلوم (جلد 7) — Page 280
انوار العلوم جلدے ۲۸۰ تحریک شدھی ملکانا کی کمزوری ہے۔ نوکر کہا کرتے ہیں کہ کام ہی کرتا ہے جو کام ہو گا وہی کریں گے یہی مومن کا حال ہونا چاہئے اگر خدا تعالٰی ملکانوں میں ہی ہمیں فتح دیدے اور ان کو ہی ہمارے ذریعہ ہدایت ہو جائے تو ہمیں انہی لوگوں میں کام کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے ۔ ان لوگوں کو ہدایت خواہ اب ہو خواہ ہماری نسلوں کے ذریعہ ہم نے کام ہی کرتا ہے اور وہ کرتے جانا چاہئے ۔ جو لوگ ست ہو گئے ہیں یہ ان کے ایمان کی کمزوری ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہی کام کا اصل وقت ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے ایک مامور کا زمانہ ہے۔ کئی لوگ اپنے دل میں یہ حسرت لے کر مر گئے کہ کاش ہم رسول کریم ال کے زمانہ میں ہوتے تو خدمات کرتے مگر خدا تعالیٰ نے ہماری حسرتوں کو نکالنے کا ہمیں موقع عطا کر دیا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر ہم رسول کریم ال کا زمانہ پاتے تو یہ کرتے کیونکہ ہمارے لئے حضرت مسیح موعود نے رسول کریم ال کا زمانہ آکر دکھا دیا ۔ اب بھی اسی طرح جہاد کا زمانہ ہے جس طرح رسول کریم ال کے وقت تھا اب بھی اسی طرح دشمنوں کا مقابلہ در پیش ہے جس طرح اس وقت تھا اب بھی اسی قدر تکالیف موجود ہیں جس قدر اس وقت تھیں ، آج بھی ایسے ہی خطرات ہیں جیسے اس زمانہ میں تھے اب بھی جان کی اسی طرح قربانی کی جاسکتی ہے جس طرح اس زمانہ میں کی جاتی تھی کئی علاقے ایسے ہیں کہ جہاں تبلیغ کرنے والوں کو جان کے خطرے ہیں اب بھی اسی طرح مال خرچ کرنے کا وقت ہے جس طرح اس زمانہ میں تھا اور ایسے ہی اعلیٰ مقاصد میں خرچ کر سکتے ہیں جیسے مقاصد کے لئے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں خرچ ہوتا تھا۔ پس خدا تعالٰی نے ہمارے لئے کامیابی کے دروازے کھول دیتے ہیں اور حسرتیں نکالنے کے سامان کر دیتے ہیں اب بھی اگر کوئی سستی کرتا ہے تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری ہے۔ اور جو دوست اس وقت جا رہے ہیں ان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایسا کام ہے جس کے مقابلہ کا اور کوئی کام نہیں ہے اور صرف ملکانوں میں ہی تبلیغ کے متعلق میں یہ نہیں کہہ رہا بلکہ جہاں بھی کوئی اس کام کے لئے جاتا ہے وہ ایسا ہی ہے ۔ اگر کوئی امریکہ جاتا ہے جہاں کے لوگ تعلیم یافتہ علم والے ہیں تو اس کا درجہ اس مبلغ سے سے بڑا نہیں جو جو جاہل اور بے علم لوگوں میں جا کر تبلیغ کرتا ہے ۔ خدا تعالی کے نزدیک اس مبلغ کا درجہ جو بادشاہوں کو تبلیغ کرنے کے لئے جاتا ہے اس مبلغ کے درجہ سے مساوی ہے جو غریبوں اور فقیروں کو تبلیغ کے لئے نکلتا ہے کیونکہ تبلیغ حق بیان کرنے کا نام ہے اور یہ جاہل کے سامنے بھی کیا جاتا ہے اور عالم کے سامنے بھی۔ بادشاہ کے سامنے