انوارالعلوم (جلد 7) — Page 266
انوار العلوم جلدے ۲۶۶ تحریک شد هی ملکانا معلوم ہونے لگا دشمن کا حملہ کچھ بھی نہ تھا۔ پس ہماری کامیابی کا رستہ ایک ہی ہے اور وہ خدا تعالٰی کی مدد اور نصرت ہے ۔ مگر جب کہ میں نے ابھی بتایا ہے اس کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی انتہائی طاقت خرچ کر دے لیکن اگر ایسا نہ کرے اور پھر خدا کی مدد مانگے تو خدا تعالٰی کی غیرت اس کے خلاف بھڑکتی ہے۔ دعائیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک وہ جس میں اپنا عجز اور انکسار ہوتا ہے اور دوسرے وہ جس میں خدا کی رحمت کو جذب کرنا ہوتا ہے ۔ قسم اول کی دعائیں تو انسان ہر وقت کر سکتا ہے کہ میرے رستہ میں کوئی روک نہ پیدا ہو مجھے کامیابی نصیب ہو ۔ مگر دوسری قسم ایسی ہے کہ اس وقت کی جاسکتی ہے جب اپنے پلے کچھ نہ رہے۔ دیکھو اگر ایک شخص یہ کہہ کر کسی سے مانگے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن اس کے پاس سے مال نکل آئے تو اس سے کیا سلوک کیا جائے گا۔ اور اسی طرح جو شخص اپنی پوری قوت اور ساری طاقت صرف کئے بغیر خدا کی نصرت اور مدد کا طالب ہوتا ہے اس سے یہی سلوک ہوتا ہے وہ خدا کی نصرت حاصل کرنے کی بجائے اس کا غضب اپنے اوپر وارد کر لیتا ہے۔ حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ ایک ہندوستانی عرب سے آرہا تھا راستہ میں اس نے ایک عرب سے کہا مجھے کھانے کو کچھ دو مگر مجھ سے اجر کی امید نہ رکھو کیونکہ میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔ یہ سن کر عرب کا چہرہ متغیر ہو گیا اور اٹھا اور اٹھ کر اپنے تربوزوں کے کھیت میں گیا تربوز توڑے اور دیکھے پھر توڑے اور دیکھے اور جو عمدہ نکلے وہ اس شخص کو کھلاتا جائے جب اس کا پیٹ بھر گیا تو اس نے اس کے کپڑے اتروا کر تلاشی لی اور کہا اب جاؤ ۔ اس نے اس کی وجہ پوچھی تو عرب نے کہا جب تو نے آکر کہا میرے پاس کچھ نہیں ہے تو میں نے یہ کھیت جو میرے بیوی بچوں کا سہارا تھا تیری خاطر برباد کر دیا اور جو بہتر سے بہتر تربوز تھا وہ تجھے کھلایا اب ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔ اگر تیرے پاس سے ایک پیسہ بھی نکل آتا تو میں تجھے قتل کر دیتا کہ میں نے مہمان نوازی میں کسر نہیں رکھی تو نے کیوں جھوٹ بولا۔ تو جو شخص اپنے پاس کچھ رکھ کر خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں وہ غضب کا مستحق ہوتا ہے لیکن اگر کوئی خالی ہاتھ خدا تعالیٰ کے حضور جاتا ہے تو کبھی خالی نہیں آتا۔ اگر اس کی درخواست سنت اللہ کے خلاف نہ ہو اور اگر کوئی بات خدا تعالی کی عظمت اور اس کے جلال کے خلاف نہیں تو نا ممکن ہے کہ خالی ہاتھ واپس آئے۔ اور ایسے شخص اگر ایک سو نہیں ایک ہزار نہیں اگر ایک لاکھ بھی جائیں گے تو اپنی دعا قبول کر ا کر آئیں گے۔