انوارالعلوم (جلد 7) — Page 267
۲۶۷ پس تم دعاؤں پر زور دو مگر یہ بھی یاد رکھو کہ دعائیں اسی وقت قبول ہوتی ہیں جب اپنی طرف سے پورے زور اور طاقت سے کام کیا جائے لیکن اگر تم محنت نہیں کرتے یا سوچ سمجھ کر کام نہیں کرتے تو تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔وعائیں جب قبول ہوتی ہیں جب کوئی اپنے کام کے متعلق سوچے اور اپنی طرف سے پوری پوری محنت کرے اس کے بعد جب کچھ نہ بنے تو خدا تعالیٰ غیب سے کامیابی کے سامان پیدا کر دیتا ہے اور عین اس وقت جب انسان ناکامی کو دیکھتا ہے کامیابی کے بادل اسے سامنے سے لہراتے نظر آتے ہیں۔یہ دونوں باتیں کافی ہیں اگر تم ان پر عمل کروگے۔اس کے بعد میں وہ شرائط دُ ہرادیتا ہوں جو اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے والوں کے لئے رکھی گئی تھیں۔پہلے کچھ ایسے لوگ چلے گئے جن کے پاس کافی خرچ نہ تھا اور انہیں دفتر سے مانگنا پڑا۔کچھ ایسے لوگ چلے گئے جنہوں نے وعدہ تو کیا تھا کہ ہر قسم کی تکالیف برداشت کریں گے مگر برداشت نہ کیں۔پھر ایسے بھی گئے کہ جو ان کے پاس خود آگیا اس کو تو پڑھادیا اور جو نہ آیا اس کی انہوں نے خبر نہ لی اور نہ اس کے پاس گئے حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ روحانی معالج اور جسمانی ڈاکٹر کی حالت میں بڑا فرق ہے۔جسمانی مریض تو خود ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں اور روحانی ڈاکٹر کو خود ان کے پاس جانا اور ان کا علاج کرنا ہوتا ہے۔پھر جس نے اپنے افسروں کی فرمانبرداری پورے طور پر نہیں کی حالا نکہ اقرار یہ ہے کہ فوجی سپاہیوں کی طرح فرمانبرداری کریں گے۔اور جانتے ہو فوجی سپاہی کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔جن میں ایک توپ خانہ فوج کے پیچھے ہوتا ہے جس کی ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر اپنے سپاہی پیچھے بھاگیں تو انہیں وہیں بھون ڈالے۔میں نے ایک دوست سے جو جنگ پر گئے تھے پوچھا کیا اب بھی بہاد ری ظاہر کرنے کا موقع ہو تاہے۔اس نے کہا وہاں تو یہی خیال ہوتا ہے کہ اگر ذرا پیچھے ہٹے تو اپنے توپ خانہ والے مارڈالیں گے اس لئے اگر دشمن سے لڑتے ہوئے مریں گے تو پنشن تو ہو جائے گی جس سے بال بچوں کا گذارہ چل سکے گا اس لئے یہی بہتر ہے کہ دشمن کا مقابلہ کرتے رہیں اور جو کچھ ہو اسے برداشت کریں اس وقت دلیری یا بزدلی کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ان سپاہیوں کا اگلے دشمن سے جانا تو آسان ہوا ہے مگر پچھلے توپ خانہ سے بچنا نا ممکن۔تو اس سختی کے ساتھ وہاں کام لیا جاتا ہے اور یہ لوگ پند رہ پند رہ، بیس بیس روپے کے لئے کام کرتے ہیں۔مگر جو لوگ خدا کے لئے نکلے ہوں ان کو کس قدر مشکلات برداشت کرنی چاہئیں۔جب کوئی سپاہی پہرہ پر کھڑا ہو تو اس کو اتنی بھی اجازت نہیں ہوتی کہ کسی چیز سے ٹیک لگائے۔پھر کئی کئی وقت