انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 264

انوار العلوم جلدے ۲۶۴ تحریک شد هی ملکانا اب یہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر نتائج ایسے خطرناک نکلتے ہیں کہ لاکھوں جانیں اس سے ضائع ہوتی ہیں ۔ پس بعض باتیں چھوٹی معلوم ہوتی ہیں مگر ان کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں۔ یہ حکمران کے نتائج ہدایات جو آپ لوگوں کو دی جاتی ہیں اس خیال سے دی جاتی ہیں کہ سب کو پڑھو اور یہ نہ دیکھو کہ ان میں سے چھوٹی کون سی ہے اور بڑی کونسی یہ سب ضروری ہیں۔ اگر کوئی ضروری نہ ہوتی تو درج ہی نہ کی جاتی اور پہلے ہی چھوڑ دی جاتی۔ یہ وہی رکھی گئی ہیں جن پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے ورنہ کامیابی محال ہے۔ اس کے بعد میں دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری کامیابی کا ذریعہ دعا ہی ہے۔ ان ہدایتوں میں بھی اس کا ذکر ہے۔ مگر میں پھر کہتا ہوں کہ ہمارے پاس اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور ساری دنیا ہماری دشمن ہے ۔ لوگ کہتے ہیں اگر ایک دشمن ہو تو اس کا مقابلہ کیا جائے دو ہوں تو ان کا کیا جائے ۔ دس بیس کا کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہمارے ہزار دو ہزار آدمی دشمن نہیں بلکہ جتنی جماعتیں اور جتنے فرقے ہیں اتنے ہی ہمارے دشمن ہیں۔ اپنے بھی دشمن ہیں اور پرائے بھی دشمن ہیں اور ہماری مثال ایسی ہی ہے کہ ایک فوج جو دوسروں کی امداد کے لئے لڑائی پر جاتی ہے اس پر وہی لوگ حملہ شروع کر دیتے ہیں جن کی مدد کے لئے گئی تھی۔ اس وقت وہ مسلمان جن کی مدد کے لئے ہم علاقہ ارتداد میں گئے تھے وہ بھی ہم پر حملہ کر رہے ہیں اور جن کا مقابلہ در پیش ہے یعنی آریہ وہ بھی حملہ آور ہیں اور انہوں نے اس خیال سے کہ اگر احمدی مبلغ نہ آتے تو ہم بہت جلدی اور بڑی آسانی سے ملکانوں کو مرتد کر لیتے انہوں نے آکر کیوں ہمارے راستہ میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کر دی ہیں دوسرے مقامات پر ہمارے آدمیوں کو تکالیف پہنچانی شروع کر دی ہیں۔ اور ایسے دفاتر سے جہاں آریوں کا قبضہ و تصرف ہے معمولی معمولی باتوں پر احمدیوں کو نکال رہے ہیں۔ غرض ہمارے چاروں طرف دشمن ہی دشمن ہیں اور اس وقت ہماری حالت احد کے مردوں جیسی ہے جن کے متعلق ایک صحابی کہتے ہیں ہمارے پاس اتنا بھی کپڑا نہ تھا کہ جس سے ہم مردوں کو ڈھانپ سکتے ۔ اگر سر کی طرف ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے۔ اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سرنگا ہو جاتا ۔ کے ہماری حالت ایسی ہی ہے اگر سرڈھانپتے ہیں تو پاؤں ننگے ہو جاتے ہیں اور اگر پاؤں ڈھانپتے ہیں تو سر ننگا ہو جاتا ہے ۔ ہماری کوششوں میں بہت سے نقص صرف اس وجہ سے رہ جاتے ہیں کہ کافی سرمایہ نہیں ہے اور ہمارے پاس کافی سامان نہیں۔ دیکھنے والا تو کام کا نقص کہتا ہے مگر کام کرنے کا شخص نہیں بلکہ سرمایہ کی کمی کا نقص ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارے افسر کی حیثیت ایک