انوارالعلوم (جلد 7) — Page 249
۲۴۹ مفید ہو غلط نہ ہو اسلام کے مطابق ہو مگر ہو ایسی عام فہم کہ سننے والوں کے لئے مفید ہو۔دسویں نصیحت یہ ہے کہ ہمد ردی سے جو کام ہو سکتا ہے وہ بغیر ہمد ردی کے نہیں ہو سکتا لیکن ہمدردی کے یہ معنے نہیں ہیں کہ تم ان میں آئندہ کے لئے کوئی لالچ پیدا کر دی بلکہ یہ ہیں کہ ان کی ضرورت کے وقت جس قدر تم مدد کر سکتے ہو کرو۔جسمانی طور پر امداد دو۔اور اگر تمہارے پاس کچھ ہو تو جس طرح اپنے وطن میں غرباء کی امداد ضرورت کے وقت کرتے ہو ان کی بھی کرو آئندہ کے لئے کوئی وعدہ نہ کرو کہ ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے کیونکہ لوگوں نے ان کو لالچ دے کر خراب کر دیا ہے۔اگر ہم بھی وعدہ دیں گے اور اس سے ان میں لا لچ پیدا ہو گا تو ان کی اصلاح مشکل ہو جائے گی۔گیارہویں نصیحت یہ ہے جو کام کرو اس کی یادداشت رکھو اور افسر کو با قاعد ہ اطلاع دو – خواہ روزانہ خواہ ہفتہ وار اس نوٹ بک کافائدہ کو آئندہ کام کرنے والے مبلغوں کو بھی ہو گا۔اس کے بعد میں اس مضمون کی طرف آتا ہوں کہ ہمارے جو بھائی پہلے گئے وہ کس حال میں گئے تھے انہوں نے وہاں کیا کام کیا۔اور کس طرح انہوں نے آریوں کی سولہ سالہ محنتوں کا مقابلہ کیا۔جب ہمارے آدمی گئے ہیں تو وہ ایسا وقت تھا جب کہ شردھانند صاحب نے علی الاعلان کیا تھا کہ ملکانالوگ پاسے پرند کی طرح چو نچ کھولے بیٹھے ہیں کہ ان کے منہ میں کوئی پانی چوائے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ جائیں اور ان کو ہندود ھرم میں ملالیں۔اس وقت مسلمانوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ملکانوں کی آبادی کہاں کہاں ہے۔صرف ہدایت الاسلام کو چند دیہات کا علم تھا اور وہ اس کو چھپائے بیٹھی تھی۔مسلمانوں کو نہیں معلوم تھا کہ کن کن ضلعوں میں ان کی آبادی ہے اور ریلوے کہاں تک ہے اور راستے کیا ہیں۔حالانکہ وہ بہت وسیع علاقہ تھا۔ملکا نہ علاقہ اسی طرح ہے ہے جالندھر، لاہور، راولپنڈی وغیرہ کی کمشنریوں کو ملا دیا جائے۔پھریو۔پی کی آبادی بھی پنجاب سے زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔پچاس میل کے علاقہ میں وہ پھیلے ہوئے ہیں۔اس کی مثال اسکی جو کہ اگر کوئی شخص یہ معلوم کرنا ہوا ہے کہ پنجاب میں سیدہ ہاں کہاں ہیں تو اس کے لئے کتنا مشکل کام ہے۔بعض علاقوں میں ریل کم ہے یا نہیں ہے۔ایسی عدالت میں ہمارے بھائی وہاں گئے اور ان میں سے بعض نے ستر ستر میل کا پیدل سفر طے کیا گویا وہ بیس بیس گھنٹے چلتے رہے ہیں اور پھر جب وہ گئے تو بعض علاقوں میں ان کوڈا کو خیال کیا گیا جن میں خیال کیا گیا کہ یہ ان کے بچے بھگالے جائیں گے۔اس حالت میں وہ ان کی بات کب سن سکتے تھے وہ بجائے ان کی بات سننے کے ہر وقت ان کی