انوارالعلوم (جلد 7) — Page 239
انوار العلوم جلد ہے ۲۳۹ تحریک شد هی ملکانا سب باتوں پر عمل کرنے لگیں گے ۔ ۲۸۔ جس جگہ پر جاؤ وہاں خوش خلقی سے پیش آؤ اور بیکسوں کی مدد کرو اور دکھیاروں کی ہمدردی کرو کہ اچھے اخلاق سو(۱۰۰) واعظ سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ ۲۹۔ جس جگہ کی نسبت معلوم ہو کہ وہاں کسی شخص کو مناسب مدد دے کر باقی قوم کو سنبھالا جا سکتا ہے تو اس کی اطلاع افسر حلقہ کو کرو مگر یاد رکھو کہ اس طرف نہایت مجبوری میں توجہ کرنی چاہئے جب کوئی چارہ ہو ہی نہیں اسی صورت میں یہ طریق درست ہو سکتا ہے۔ مگر خود کوئی وعدہ نہ کرو نہ کوئی امید دلاؤ - امداد کس رنگ میں دی جا۔ میں دی جاسکے گی یہ افسروں کی ہدایت میں درج ہو گا اس معاملہ کو افسر حلقہ کے سپرد رہنے دو۔ ۳۰۔ کھانے پینے ، پہنے میں بالکل سادہ رہیں اور جس جگہ افسر حلقہ مناسب سمجھے وہاں کا مقامی لباس پہن لیں اور جس جگہ وہ مناسب سمجھے ایک چادر ہی پہن لو۔ اگر ضرورت ہو تو گیروا رنگ دلوالو ۔ یاد رکھو کہ لباس کا تغیر اصل نہیں۔ لباس کا تغیر اسی وقت برا ہوتا ہے جب انسان ریاء کے لئے یا کسی قوم سے مشابہت کی غرض سے پہنتا ہے۔ تمہارا تغیر لباس تو عارضی ہو گا اور جنگ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہو گا۔ پس تمہارا طریق قابل اعتراض نہیں ہو گا کیونکہ تم سادھو یا فقیر یا صوفی کہلانے کے لئے ایسا طریق اختیار نہیں کروگے اور چند دن کے بعد پھر اپنا لباس اختیار کر لو گے اس لباس کی غرض تو صرف دشمن اسلام کے حملہ کا جواب دینا ہو گی۔ ۳۱۔ کبھی اپنے کام کی رپورٹ لکھنے اور پھر اس کو دفتر حلقہ میں بھیجنے میں سستی نہ کرو۔ یاد رکھو کہ یہ کام تبلیغ کے کام سے کم نہیں ہے۔ جب تک کام لینے والوں کو پورے حالات معلوم نہ ہوں وہ ہرگز کام کو اچھی طرح نہیں چلا سکتے۔ پس جو شخص اس کام میں سستی کرتا ہے وہ کام کو نا قابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے ۔ ۳۲- دشمن تمہارے کام کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر طرح کی تدابیر کو اختیار کرے گا تمہاری ذرا سی بے احتیاطی کام کو صدمہ پہنچا سکتی ہے۔ پس فتنہ کے مقام سے دور رہو اور ایسی مجلس میں نہ جاؤ جس میں کوئی تہمت لگ سکے۔ کسی شخص کے گھر میں نہ جاؤ جب تک تجربہ کے بعد ثابت نہ ہو جائے کہ وہ دشمن نہیں دوست ہے ۔ کھلے میدان میں لوگوں سے باتیں کرو۔ ۳۳ غصہ کی عادت ہمیشہ ہی بری ہے مگر کم سے کم اس سفر میں اس کو بالکل بھول جاؤ کسی وقت غصہ