انوارالعلوم (جلد 7) — Page 240
۲۴۰ میں آکر ایک لفظ بھی سخت تمہارے منہ سے نکل گیا تم کسی کو د ھمکی دے بیٹے یا کسی کو مار بیٹھے تو اس کا فائدو تو کچھ بھی نہیں اگر آریہ لوگ اس کو اس قدرت شہرت دیں گے کہ ہمارے مبلغوں کو ان کے حملوں کے جواب دینے سے فرصت نہ ملے گی اور سلسلہ کی سخت بدنامی ہوگی۔پس گالیاں سن کر دعا دو اور عملاً دو اور جوش دلانے والی بات کو سن کر سنجیدگی سے کہہ دو کہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم میں اس کا جواب دینے سے مانع ہے۔تم پھر بھی اس کے خیر خواہ ہی رہو۔اپنے مخالف سے بھی کہو کہ تم اس کے دشمن نہیں ہو بلکہ تم باوجود اس کی عداوت کے اس کے خیر خواه ہو کیو نکہ تم کو خدا تعالیٰ نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے مقرر فرمایا ہے۔اگر کوئی مار بھی بیٹھے تو اس کی پرواہ نہ کرو۔یاد رکھو کہ لوگ بزدل کو حقیر جانتے ہیں اوروہ فی الواقعہ حقیر ہے لیکن تکلیف اٹھا کر صبر کرنے والا اور اپنے کام سے ایک بال کے برابر نہ ہٹنے والا بزدل نہیں وہ بہاد رہے۔بزدل وہ ہے جو میدان سے بھاگ جاتایا اپنی کوششوں کو سست کردیتا ہے جو مار کھاتا اور صبر کرو اور اپنے کام کو جاری رکھتا ہے وہی در حقیقت بہادر ہے کیونکہ بہادری کا پتہ تو اسی وقت لگتا ہے جب اپنے سے طاقتور کا مقابلہ ہو اور پھر بھی انسان نہ گھبرائے۔۔۳۴ میں نے بار بار آہستگی کی تعلیم دی ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مہینوں اور برسوں میں کام کرو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدم بقدم چلو۔جب قدم مضبوط جم جائے تو پھر دوسرے قدم کے اٹھانے میں دیر کرنا اپنے وقت کا خون کرنا اور اپنے کام کو نقصان پہنچانا ہے۔اگر گھنٹوں میں کام ہوا ہے تو گھنٹوں میں کرواکر منٹوں میں کام ہوتا ہے تو منٹوں میں کرو صرف یہ خیال کر لو کہ اس کی رفتار ایسی تیز نہ ہو کہ خود کام ہی خراب ہو جائے یا آئندہ کام پر اس کا بد اثر پڑے۔۳۵- ایسے علاقوں میں رات نہ گذاروجہاں فتنہ کا ڈر ہو۔اگر وہاں رات بسر کرنی ضروری ہو تو شہر میں نہ رہو شہر سے باہر کسی پرانے مکان یا کسی جھونپڑے میں یا اس کے کسی گاؤں میں رہو صبح پھر و ہیں آجاؤ – یہ بزدلی نہیں حکمت عملی ہے۔۳۶-اس عرصہ میں اگر پرانے ہندوؤں کو تبلیغ کر سکو تو اس موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دو مگر سوائے ان لوگوں کے جن کا کام بحث کرنا مقرر کیا گیا ہے دوسرے لوگ بحث کے کام میں حصہ نہ لیں بلکہ فردا فردا اور الگ الگ تبلیغ کریں۔