انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 4

انوار العلوم - جلد خطاب جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء ہم بھی انہی لوگوں کا گوشت و پوست ہیں جو آج دنیاوی مشاغل میں مشغول ہیں اور جن کی ساری ہمت اور ساری کوشش دنیا ہی کے لئے خرچ ہو رہی ہے مگر ہم محض خدا تعالی کے لئے یہاں جمع ہوتے ہیں۔ ہمارا آج خدا تعالی کے لئے اوقات خرچ کرنا ہماری کسی خوبی کی وجہ سے نہیں بلکہ محض خدا تعالی کا فضل ہے اور خدا تعالیٰ جس پر چاہتا ہے فضل کرتا ہے پس ہم پر اس کے فضل اور احسان کا شکر ضروری ہے۔ اس کے بعد اے بھائیو! میں آپ لوگوں کو اس کام کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کام کے لئے ہم نے کریں کسی ہیں۔ چونکہ پہلے کام آئندہ کے لئے ایک تحریص اور ا رہاص کا موجب ہو جاتے ہیں اس لئے میں آپ لوگوں کو واقف کرنے کے لئے اور ضروریات سلسلہ کو محسوس کرانے کے لئے ان کاموں کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو ہو رہے ہیں۔ میں نے پچھلے سال سے سالانہ مجلس مشاورت کی بنیاد رکھی ہے۔ مگر مجھے مجلس مشاورت مجھے افسوس سے کہنا پڑا ہے کہ مجلس مشاورت میں کم احباب شریک ہوئے ۔ وہ جلسہ نہیں تھا کہ سارے لوگ آتے مگر مجلس مشاورت تھی اس لئے ہر جماعت کی طرف سے ایک ایک قائم مقام آنا چاہئے تھا مگر بہت کم آئے اور کم جماعتوں نے اپنے اس فرض کو محسوس کیا۔ دیکھو کیا عجیب بات ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ لوگ جمہوریت کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں اور شکایت کی جاتی ہے کہ حکمران ان کی آواز سنتے نہیں میں تمہیں خود مشورہ لینے کے لئے اور ضروریات سلسلہ بتانے کے لئے بلاتا ہوں مگر کئی ہیں جو نہیں آتے ۔ ایک تو ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ حکمران ہم سے مشورہ نہیں لیتے لیکن ایک ہم ہیں کہ کہتے ہیں مشورہ دو مگر لوگ آتے نہیں۔ ایک غلط خیال کا ازالہ میں سمجھتا ہوں یہ کسی سنتی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک غلط خیال کی والہ وجہ سے ہے اور وہ خیال یہ ہے کہ جب ہم ایک ہاتھ پر بک چکے ہیں تو پھر ہمیں کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے جس طرح ہمیں کہا جائے گا اسی طرح ہم کریں گے۔ یہ ٹھیک ہے کہ جس کے ہاتھ پر تم بک چکے ہو اس کی طرف سے جب کوئی حکم ہو تو اسی طرح کرنا چاہئے جس طرح کہا جائے مگر جب مشورہ کے لئے کہا جائے تو مشورہ دو کیونکہ یہ بھی اسی کا حکم ہے۔ پس جب مشورہ کے لئے بلایا جائے تو آپ لوگوں کو چاہئے کہ آئیں خواہ اس کے لئے اپنے مالوں اور وقتوں کی قربانی کرنی پڑے ۔ جس وقت مال کی قربانی کی ضرورت ہو اس وقت مالی قربانی کرنی چاہئے