انوارالعلوم (جلد 7) — Page 177
۱۷۷ تحریک شدھی ملکانا جتنے نبی تھے آئے موسی ہوا یاکہ عیسٰی مکا ہیں یہ سارے ان کی ندا یہی ہے جس وقت یہ شعر پڑھا گیا آریہ لیکچرار نے اشتعال دلانے کے لئے کہہ دیا کہ دیکھو مسلمانو! تمہارے نبیوں کو گالیاں دیتے ہیں اس پر سخت شور پڑگیا۔ایک شخص نے آگے بڑھ کر قاسم علی خان صاحب رامپوری پر جونظم پڑھ رہے تھے بڑے زور سے لٹھ مارا اور اگر میزپر لگ کرلٹھ ٹوٹ نہ جاتا اور ان کو لگ جاتا تو شاید خونی ہو جا - باوجود بعض شریف فیراحمدیوں کے سمجھانے کے کہ یہ تو آریوں کا ذکر ہے کہ وہ ایسا کہتے ہیں نہ کہ خود حضرت مرزا صاحب کا قول ہے لوگ شورش سے باز نہ آئے اور مباحثہ ملتوی ہوگیا۔کچھ عرصہ ہوا کہ ایک معزز ہندوصاحب ہمارے ذریعہ سے مسلمان ہوئے۔انہوں نے سنایا کہ ایک مولوی صاحب جموں میں ان کو مل کر بڑے زورسے سمجھاتے رہے کہ اگر احمدیہ اسلام سے توان کو ہندو مذہب میں ہی رہنا چھا تھا اب تو انہوں نے اپنی عاقبت بالکل ہی خراب کرلی ہے۔یہ تو ہندوستان کے واقعات ہیں۔ایک بڑے خاندانی اور معزز امریکن تاجر جو مفتی محمد صادق صاحب کے ذریعہ سے احمدی ہوئے ہیں انہوں نے ایک خط کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ وہ کچھ امریکن لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کر رہے تھے کہ انہوں نے اسلام کے بعض عیوب بیان کئے اس پر انہوں نے احمدی نقطہ خیال سے ان اعتراضات کے جواب دیئے۔ایک بنگالی مسلمان جو ایک عرصہ سے امریکہ میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے ہیں انہوں نے اس نو مسلم بھائی کی یہ مدد کی کہ جھٹ ان مسیحیوں کو کہنا شروع کردیا کہ یہ سب جھوٹ ہے یہ تواحمدیوں کی بنائی ہوئی باتیں ہیں اصل بات وہی ہے جو تم کہتے ہو۔آخربات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ اس نے کہہ دیا کہ یہ تو ناواقف ہے میں ہندوستان کا رہنے والا ہوں مرزا غلام احمد ایک ٹھگ اور دوکاندار آدمی تھا (نعوذ بالله من ذلك) ان لوگوں کی باتوں میں نہ آؤ- وہ امریکن نو مسلم لکھتا ہے کہ خواہ تم برا مانو یا اچھا سمجھو مجھے اس کی یہ حرکت کہ اس نے بلاوجہ حضرت مرزا صاحب کو گالیاں دینی شروع کردیں ایسی بری معلوم ہوئی کہ میں نے اس کی گردن پکڑ لی اور اس کو مارکر کارخانہ سے باہر نکال دیا۔احمدیوں کی مخالفت میں مسجد ویران کرلی ڈیٹرائٹ ملک امریکہ میں بعض ترکوں نے ایک مسجد بنائی تھی مفتی محمد صادق صاحب