انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 176

انوار العلوم جلدے 144 تحریک شد هی ملکانا کہ ہمارے ہاں خدا کو باپ قرار دے کر انسان اور خدا میں ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم کر دیا ہے مگر یہ دعوی باطل ہے کہ کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے خدا تعالیٰ کو اس قسم کے نام سے یاد نہ کیا ہو۔ چنانچہ مختلف مثالیں دیتے ہوئے میں نے بتایا کہ ہندوؤں میں خدا تعالیٰ کو ماں سے تشبیہ دی گئی ہے اور ماں کا رشتہ باپ سے زیادہ محبت کا ہوتا ہے۔ اور پھر بتایا کہ اسلام نے خدا تعالیٰ کو خود باپ اور ماں تو نہیں کہا کیونکہ یہ الفاظ اس حقیقی تعلق کو نہیں بتاتے جو بندہ اور خدا میں ہونے چاہئیں لیکن یہ ضرور بتاتا ہے کہ خدا تعالی کا تعلق ماں باپ سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور اس تعلیم میں اسلام مسیحیت اور ہندو مذہب دونوں سے بہت بالا ہے۔ اس پر ایک مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر شور مچا دیا کہ یہ بات کہاں لکھی ہے اس کا حوالہ دو۔ ایک جماعت امرتسر کے لوگوں کی ان کے ساتھ مل گئی اور لیکچر گاہ میں شور پڑ گیا۔ باوجو د بار بار سمجھانے کے مولوی صاحب باز نہ آئے اور انہوں نے لوگوں کو اکسانا شروع کر دیا کہ اس جگہ بیٹھو ہی نہیں فوراً یہاں سے چل دو اور نہ جانے والوں پر فتوے لگانے شروع کئے مسلمانوں میں سے تو کئی لوگ اٹھ کر چلے گئے ۔ مگر ہندو لوگ بیٹھے رہے۔ اس پر ایک مولوی صاحب نے بڑے زور سے کہنا شروع کیا کہ اے ہندوؤ! تمہیں شرم نہیں آتی کہ یہ تمہارے مذہب کی ہتک کر رہا ہے اور پھر تم یہاں بیٹھے ہو وہ ہتک کیا تھی وہ میرا یہ فقرہ تھا کہ اسلام کی تعلیم اس بارے میں مسیحیت بلکہ ہندو مذہب سے بھی اعلیٰ ہے۔ سینکڑوں مسلمان وہاں موجود تھے مگر کسی نے اس بات کو برا نہ منایا نہ کسی اخبار نے اس بے ہودگی پر نوٹس لیا ۔ کیوں ؟ آہ ! صرف اس لئے کہ ہماری مخالفت میں اگر اسلام کو بھی قربان کرنا پڑے تو اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ ایک مثال بالکل تازہ ہے۔ ابھی دہلی میں ہمارا جلسہ ہوا ہے اور جس تاریخ کو وکیل نے ہمیں اس امر کی دعوت دی ہے کہ ہم اسلام کی حفاظت کے لئے باہر نکلیں اسی تاریخ دہلی میں ہمارا ایک مباحثہ آریوں سے ہو رہا تھا۔ اس دن ہماری مخالفت کے نشہ میں سرشار مسلمان کہلانے والوں کی ایک جماعت آریہ واعظ کے ساتھ مل کر پنڈال میں داخل ہوئی اور اس کی تائید کے لئے ڈنڈے اور سوئے ساتھ لائی۔ مباحثہ کے شروع میں ایک نظم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پڑھی گئی جس میں آریوں کی اس دشنام دہی کا ذکر ہے جو وہ تمام بانیان مذاہب کے متعلق کرتے ہیں۔ اور اس کا ایک شعر یہ ہے۔