انوارالعلوم (جلد 7) — Page 150
۱۵۰ حدود حکومت یعنی حکومت ملک کی آزادی میں کس حد تک دخل دے سکتی ہے۔کہاں تک بادشاہت رہتی ہے۔۳۔طریق حکومت۔اس کی پھر کئی شاخیں ہیں۔(1) غیرمحدود سلطنت جس میں بادشاہ کے اختیارات محدود نہیں۔(۲) محدود سلطنت۔اس میں حکومت کے پورے اختیارات نہیں ہوتے۔بادشاہ رعایا کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتے۔(۳) حکومتِ نواب یعنی قائم مقاموں کی حکومت۔۴- حکومتِ فردی۔یعنی ایک ہی شخص حکومت کرے جس کو شاہی حکومت بھی کہتے ہیں۔۵۔حکومتِ عوام یعنی عام لوگوں کی مرضی سے حکومت۔اس میں ایک بحث یہ ہے کہ آیا عام لوگوں کی حکومت بہتر ہے یا اس سے نقصان ہوتا ہے۔۵۔حکومتِ عقلاء چند عقلمندوں پر حکومت چھوڑ دی جائے۔- حکومت ِامراء۔چونکہ سب سے زیادہ نقصان انقلاب حکومت پر امراء کا ہوتا ہے اس لئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ امراءکا حق ہے کہ وہ حکومت کریں۔پھر اس میں یہ بحث ہے کہ آیا یہ مفید ہے یا نہیں۔۰۸ حکومتِ پنجائتی۔حکومت پنجائتی میں ایک حکومت نہیں ہوتی بلکہ حکومت کو پھیلادیا جاتاہے جیسے آج کل روس کی حکومت کو کہاجاتا ہے۔ہر جگہ اپنی حکومت ہے۔بادشاد ہو تا ہے اس کا اتناہی کام ہوتا ہے کہ وہ دیکھ لے کہ آپس میں نہ لڑیں یا باہر سے دشمن آوے تو اس کا انتظام کریں۔یہ ایسی حکومت ہوتی ہے کہ قادیان کی اپنی ہو۔دہلی کی اپنی۔لاہور کی اپنی۔گویا ہر شہرکی اپنی حکومت ہوتی ہے۔۔۔حکومتِ شیوخ ہے۔اس میں بوڑھے تجربہ کار لوگ حکومت کرتے ہیں۔عربوں میں یہی طریق حکومت تھا۔چالیس برس سے اوپر کی عمر کے لوگوں کا انتخاب کر لیا جاتا تھا۔۱۰۔دسویں تاریخ اسلامی حکومت ہے کہ وہ ان میں سے کسی میں شامل نہیں ہے کہ اس نے سب سے لیا ہے اور تمام خوبیوں پر مشتمل ہے۔محدود، غیر محدود، امراء ،عقلاء،نیابتی اور شیوخ سب کو اس نے جمع کیا ہے اس لئے بہترین حکومت ہے۔