انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 143

۱۴۳ ایک قسم علاج کی علاج بالشعاع ہے یعنی سورج کی روشنی سے علاج کرتے ہیں۔سورج کی روشنی مختلف رنگوں سے مل کر نئی کیفیتیں اور مختلف اثرات پیدا کرتی ہے۔اس علاج کے ماہر سبز، سرخ یا اور رنگوں کی شیشیاں لے کر ان میں پانی ڈالتے ہیں اور پھر اسے بطور دوا استعمال کرتے ہیں۔اس علاج کی بھی کئی صورتیں ہیں۔کبھی سورج کی شعاعوں میں بحثھا کر بعض امراض کاعلاج کرتے ہیں۔ایک قسم علاج کی علاج بالبرق ہے۔بجلی کے ذریعہ مختلف امراض کا علاج کرتے ہیں۔اس غرض کے لئے مختلف قسم کے آلات بنائے گئے ہیں اور ہر مرض میں اس کے مناسب حال آلہ لگا کر علاج کریں گے۔مثلا ًگلے میں درد ہے تو ایک آلہ لگا کر اسے بجلی سے دور کریں گے یا جوڑوں میں درد ہے تو بجلی کے ذریعہ اس کی اصلاح کریں گے۔یہ بھی ایک بہت بڑا علم ہوگیا ہے۔ایک قسم علاج کی ہومیو پیتھی ہے جس کو علاج بالمثل کہتے ہیں اس قسم کا علاج کرنے والے کہتے ہیں کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے اور وہ مختلف امراض میں مبتلاء ہوتا ہے اس کو ان بیماریوں سے شفا پانے کے لئے ایک ایساگر بتادیا ہے کہ اس کے استعمال سے فائدہ ہو تا ہے اور وہ یہ ہے کہ جس چیز سے بیماری پیدا ہوتی ہے اس کی قلیل مقدار دینے سے وہ دور ہو جاتی ہے۔مثلاً افیون قبض کرتی ہے لیکن جب افیون نہایت ہی قلیل مقدار میں دی جائے تو وہ قبض کشاہو جاتی ہے۔اس غرض کے لئے انہوں نے کیمیاوی ترکیب سے ہر چیز کی تاثیر کو نکال لیا ہے کو نین جو ہے یہ ایک بوٹی کاسَت ہے یہ بوٹی بنگال میں ہوتی ہے مگر لوگوں کو معلوم نہیں۔ایک بایوکیمک کہلاتی ہے اس کے اند رطبّ والوں نے یہ بحث کی ہے کہ انسان باره نمکوں سے بنا ہے۔پس انہوں نے کیمیاوی طور پر خون کو دیکھا ہے وہ کہتے ہیں جو بیماری پیدا ہو اس قسم کی چیز دی جائے۔اس میں ایک ویکسین ہوتا ہے اور ایک سیرم۔ویکسین یہ ہے کہ جیسے ہلکے کتے کاکاٹا ہوا ہو تو اسی کا زہر دے کر پچکاری کردیں گے۔سیرم یہ ہوتا ہے کہ جب کو کئی بیماری ہو تو اس میں دور کرنے کا جو مادہ ہوتا ہے اسے لے کر محفوظ رکھتے ہیں اور پھراس قسم کے مریضوں میں اسے داخل کرتے ہیں۔ایک قسم طبّ کی آٹوینی ہے یعنی اپنے ہی خون سے علاج کرتے ہیں۔جو بیمار آئے گا اسی کا خون لے کر علاج کریں گے۔ایک علاج بالتوجہ ہوتا ہے۔اس میں صرف توجہ سے علاج کرتے ہیں دوائی نہیں ہوتی۔