انوارالعلوم (جلد 7) — Page 140
انوار العلوم جلدے ١٤٠ تقاریر ثلاثة آواز کس طرح پر خوشی اور غم و افسردگی پیدا کرتی ہے۔ کونسی آواز میں ہمت و جرأت ہوتی ہے۔ یہ ایسا علم ہے کہ جذبات ابھر سکیں۔ ایک شخص جو روپیہ خرچ نہیں کر سکتا ایک عمدہ گانے والا اس میں ایسی کیفیت پیدا کر سکتا ہے کہ سب روپیہ اس سے لے لے یا بزدل بنادے یا ہمت پیدا کر دے ۔ یہ خاص فن ہے اس میں صرف آواز کے اونچے نیچے کرنے سے جذبات ابھرتے ہیں اور یہ بہت ہی نازک فن ہے۔ چونکہ اس میں بعض نقائص ہیں اس لئے اسلام نے جائز نہیں رکھا۔ ڈراما نویسی (۱۶) سولھواں علم، ڈرامہ نویسی ہے۔ ڈرامہ وہ حصہ جس کو عملی طور پر کرنا ہوتا ہے ناٹک میں جہاں بادشاہ وزیر یا ڈا یا ڈا کٹر لکھا ہے تو اس میں بن کر دکھایا جاتا ہے عملی طور پر جب ڈرامہ کر کے دکھایا جائے تو اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے پھر اس کے کئی حصے ہیں۔ جب اس کو سٹیج پر کر کے دکھایا جاتا ہے تو دلچسپ ہوتا ہے۔ کتابوں میں سرسری طور پر پڑھیں تو بعض اوقات بہت خشک معلوم ہوتا ہے۔ ڈرامہ نویس ان باتوں کا خیال رکھتا ہے کہ ان کی تصنیف میں ایک اثر اور جذب ذب ہو اور سٹیج پر کرتے تے وقت اس میں کوئی ایسی با ی بات نہ پیدا ہو جو بے لطفی اور کمزوری کا موجب ہو ۔ میں نے علوم کی اس تقسیم میں کوئی لمبی تقسیم نہیں کی کیونکہ ایسی تقسیم ایک لمبا عرصہ چاہتی ہے بلکہ میں نے اس تقسیم میں سرسری طور پر جو جو علم میرے سامنے آتا گیا اس کو بیان کر دیا ہے۔ (۱۷) سترہواں علم علم الاغذیہ والا شربہ ہے۔ اس میں یہ بتایا ہے کھانے پینے کے علوم کہ کون سی غذائیں کھانے کے قابل ہیں۔ صحت کے لئے کسی قسم کی غذا مفید ہوتی ہے اور کس قسم کی غذاؤں کا خراب اثر صحت پر پڑتا ہے۔ پھر اس میں یہ بھی داخل ہے کہ سردی یا گرمی میں کس کس قسم کی غذائیں استعمال کرنی چاہئیں۔ بیمار ہو جائے تو اس کی غذا کا خاص اہتمام کس طریق پر کیا جاتا ہے اور اس کی غذاؤں میں کن امور کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ پھر جسم کے خاص اعضاء پر کسی قسم کی اغذیہ اپنا خاص اثر ڈالتی ہیں۔ مثلاً دماغ کی کمزوری یا دل کی کمزوری میں کیا استعمال کرنا چاہیئے معدہ کمزور ہو تو کیا کھانا چاہئے۔ یہ بہت بڑی تفصیل ہے اور اسی کا ذکر اور بیان اس علم میں ہوتا ہے۔ اور اس میں ان اشیاء کا ذکر آتا ہے کہ پینے کے قابل کیا کیا چیزیں ہیں۔ تندرستی میں کیا اور بیماری میں کیا۔ اور پھر مختلف بیماریوں میں مختلف قسم کے شربت یا عرق دیئے جاتے ہیں۔ بہت سی