انوارالعلوم (جلد 7) — Page 118
انوار العلوم جلدے vil نقاری ثلاثه کے چار بڑے فرقے اصول کے لحاظ سے ہیں۔ اول۔ رومن کیتھولک :۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے خلیفہ پیٹ پیٹر (پطرس) تھے۔ پطرس حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری اور خلیفہ تھے اس کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ روم میں رہے۔ وہ (کیتھولک) کہتے ہیں کہ جب روم میں گئے تو ان کو قائم مقام مقرر کیا تھا اس لئے وہ ان کا خلیفہ تھا۔ روم کے پادریوں کا سب سے بڑا افسر جس کو پوپ کہتے ہیں اس کو وہ پطرس کا جانشین اور خلیفہ سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ باقی جس قدر پادری ہیں وہ اس کی اطاعت کریں۔ اگر وہ اس کی اطاعت نہیں کرتے تو مسیح کی بھی نہیں کرتے۔ غرض وہ حضرت مسیح کی خلافت متواترہ کا اقرار کرتے ہیں۔ میں اس وقت یہ بحث نہیں کروں گا کہ یہ غلط ہے یا صحیح بلکہ مجھ کو تو صرف یہ بتانا ہے کہ یہ بھی ایک علم ہے۔ پھر وہ لوگ حضرت مریم کی طرف بھی کچھ خدائی صفات منسوب کرتے ہیں اور یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب کوئی بزرگ مرجاتا ہے تو اس کی قبر یا لاش سے دعا کرتے ہیں۔ سائنس کے طریق پر بعض لاشوں کو محفوظ رکھتے ہیں اور بزرگوں کی قبروں پر یا جہاں انہوں نے دعائیں کی ہوں جاتے ہیں۔ انتظامی طور پر وہ خلیفہ کو مانتے ہیں اور مذہبی لحاظ سے ان کا خیال ہے کہ حضرت مسیح اور مریم اور دوسرے بزرگوں کی قبر یا مقامات مقدسہ پر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے۔ ان میں ایک رسم عشاء ربانی کی ہے۔ کہتے ہیں کہ مسیح نے اپنی گرفتاری سے پہلے شراب یا انگور کا رس اور روٹی کا ٹکڑا لے کر پیا اور حواریوں کو دیا اور اس کی تعبیر اپنے گوشت اور خون سے کی۔ یہ اس کی نقل کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں یعنی وہ ڈبل روٹی کو گوشت اور شراب کو اس کا خون یقین کرتے ہیں رومن کیتھولک کے ماتحت بہت بڑا علاقہ ہے اور رومن کیتھولک پرانے طریق کے عیسائی ہیں۔ دوسرا فرقه گریک چرچ (Greek Church) ہے گر یک چرچ کے معنے ہیں یونانی گر جا۔ یہ لوگ پانچویں مسیحی میں جدا ہو گئے۔ یونانیوں میں بت پرستی زیادہ تھی یہ لوگ رومیوں کے اس خیال کو صحیح نہیں سمجھتے کہ پوپ مسیح کا قائم مقام ہے اس لئے وہ پوپ سے الگ ہو گئے۔ ان کا بڑا پادری پیری یارک کہلاتا ہے جو قسطنطنیہ میں رہتا ہے اس کو بھی پوپ کی طرح وہ مسیح کا قائم مقام نہیں سمجھتے۔