انوارالعلوم (جلد 7) — Page 116
۱۱۶ تقارير ثلاثہ مگر اس شخص نے اپنے نفس کی بڑائی کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ وہ تاریخ سے بھی واقف ہے ایک ایسی بات کہی جو اس کی ذلت کا باعث ہو گئی اس لئے کہ وہ غلط تھی پس ایسے علوم سے انسان کو کم از کم واقفیت ہونی چاہئے۔اس لئے میں نے بتایا تھا کہ مختلف اوقات میں علمی امور پر تقریر میں ہوتی رہیں تاکہ سب ممبر واقف ہو جائیں اور یہ علوم خواہ دینی ہوں یا دنیوی۔اور یہ بھی بتایا تھا کہ مردوں کو بعض وقت معلوم نہیں ہوتا کہ کون سے مسائل ہیں جو عورتوں کے لئے ضروری ہیں اس لئے میں نے تجویز کیا کہ ایک لیکچرایسا ہو کہ اس میں بتا دیا جائے کے علوم کون سے ہیں تب عورتیں خود فیصلہ کر سکیں گی کہ وہ کس کس علم کے متعلق تفصیل سے سننا چاہتی ہیں۔جیسے اگر کسی شخص کو شہروں کے دیکھنے کی خواہش ہو۔مثلاً دہلی ہے تو وہ اس کے دیکھنے کے لئے آرزو کرے گا اس لئے کہ اس نے دوسرے بڑے شہروں جیسے لنڈن، پیرس، کا نام نہیں سنا اور نہ ان کی وسعت اور خوبصورتی کے متعلق کچھ معلوم ہے حالا نکہ لنڈن، پیرس، برلن بہت بڑے شہر ہیں مگر چونکہ ان کے متعلق علم نہیں۔اس لئے دہلی کے دیکھنے کی تو خواہش کریں گے حالانکہ وہ ان شہروں سے کچھ نسبت ہی نہیں رکھتا۔اسی طرح عورتیں اسی وقت معلوم کریں گی جب ان کے سامنے علوم کی ایک فہرست رکھ دی جاتے ہیں میرا یہ لیکچر صرف علوم کی تعریف کے متعلق ہو گا میں بتاؤں گا کہ دنیا میں کیا کیا علوم ہیں۔علم کے مفہوم کی وسعت علم کےمعنے میرے نزدیک یہ نہیں کہ جو سچاہی ہو میرے نزدیک علم کئی قسم کے ہوتے ہیں۔بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ فی الحقیقت وہ سچے اور مکمل ہوتے ہیں اور بعض نہ سچے ہوتے ہیں اور نہ مکمل ہوتے ہیں مگر پھر بھی ان کو علم کہا جاسکتاہے اور بعض ابھی معرضِ تحقیق میں ہوتے ہیں مگر علم کہلاتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو پڑھنا ہوتا ہے مگر عمل اور کام کرنا نہیں ہو تا اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں صرف کام کرنا پڑتا ہے اور ہاتھ کا زیادہ دخل ہوتا ہے۔پس میں اس مضمون میں صرف علوم کی فہرست بتاؤں گا تاکہ اندازہ کر لیں کہ کس قدر علم کی ضرورت ہے اور اسی طرح پر اس فہرست میں وہ علوم بھی لوں گا جو سچے اور درست ہیں اور وہ علوم بھی لوں گا جو درست نہیں۔ایسے بھی جو عقل سے تعلق رکھتے ہیں اور ایسے بھی جو صرف علم سے تعلق رکھتے ہیں۔عام طور پر علوم دو قسم کے ہوتے ہیں۔مذہبی یا دینی اور دنیاوی۔پہلے میں مذہبی علوم لوں گا۔