انوارالعلوم (جلد 7) — Page 89
۸۹ نجات سنائی دیتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا پھر یہ تو تم سے مخول کیا جاتا ہے جو شیطان کرتا ہے۔پس شیطانی اور خدائی الہام میں یہ فرق ہے۔خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت اب خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت بیان کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اس مومن کو جو خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر ترقی کرتا چلا جاتاہے پیچھے نہیں ہٹتا۔فرشتے آکر کہتے ہیں نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَ ۴۸ ہم تمہارے دوست ہیں اس دنیامیں بھی اور آخرت میں بھی اور تم کو آخرت میں جو کچھ تمہارے نفوس خواہش کریں گے ملے گا اور تم جو کچھ وہاں مانگو گے ملے گا۔پس فعلی شہادت خدا تعالی ٰاس طرح دیتا ہے کہ ایسے بندوں کو اس دنیا میں مدددیتاہے۔یہ شہادت کئی طریق سے دی جاتی ہے۔(۱) ایسے شخص کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کی بات کو مانتا ہے۔اس جگہ دو سوال پیدا ہوتے ہیں میں ان کا جواب دے دینا مناسب سمجھتا ہوں۔اول سوال اس فقرہ سے یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان لوگوں کی سب دعائیں سنی جاتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں سب دعائیں نہیں قبول کی جاتیں بلکہ بعض دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور بعض نہیں قبول کی جاتیں۔دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھرانہی کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور دوسروں کی نہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔دعائیں اللہ تعالیٰ ٰہر شخص کی قبول کرتا ہے خواہ وہ کافر سے کافرہی کیوں نہ ہو۔ان دونوں سوالوں کے جواب سے ایک تیسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نہ ان لوگوں کی سب دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور نہ ان کو ہی خصومیت حاصل ہے کہ ان کی بعض دعائیں قبول کی جاتی ہیں تو پھر ان میں اور دوسروں میں فرق کیا ہے ؟ اور ان کو دوسرے لوگوں پر کیا امتیاز حاصل ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی دعاؤں کی قبولیت اور دوسرے لوگوں کی قبولیت میں بہت سے فرق ہیں اور وہ یہ کہ ایسے انسان کی دعائیں کثرت سے سنی جاتی ہیں اور دوسروں کی کوئی کوئی اور یہی دوست اور غیردوست میں فرق ہوتا ہے۔کبھی تو غیردوست کی بات بھی مان لی جاتی ہے مگر دوست کی دوست اکثر باتیں مانتا ہے۔(۲) اس کو بعض اوقات دعا کی قبولیت الہام یا قلبی اثر کے ذریعہ بتا دی جاتی ہے مگر دوسرے باوجو و قبولیت دعا کےشک کے مقام پر رہتے ہیں اوروہ وثوق کے مقام پر ہوتا ہے۔