انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 86

۸۶ نجات صدمہ پہنچتا ہے۔دیکھو اگر کسی کا بچہ جل جائے تو اس وقت ماں بچے کو یہ نہیں کہتی کہ میں نہ کہتی تھی آگ کے پاس نہ جاؤ بلکہ اس وقت سواۓ صدمہ کے اس کے دل میں اور کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا (۷) معرفت کی کھڑکی کھولنے کی بجائے اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ دینی علوم اسے نہیں سوجھتے۔پس انسان سمجھے کہ میں نیچے جا رہا ہوں (۸) غصہ اور جوشی کی حالت میں خدا تعالی ٰکا نام سن کر ڈر نہ پیدا ہو (۹) موٹی موٹی بدیاں بھی جب اس کی نظرسے چھپتی جائیں تو سمجھے کہ نجات سے دور جارہا ہوں (۱۰) نیکیوں کا دروازہ کھلتا نظر نہ آۓ (۱۱) خدا کی قضاء پر رنج ہو۔نجات یافتہ کی علامتیں اسی جگہ یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ پچھلی علامتوں سے انسان یہ تو معلوم کر سکتا ہے کہ میں نجات کی طرف جا رہا ہوں لیکن اسے یہ کیونکر معلوم ہو کہ وہ نجات حاصل کر چکاہے گو اس کایہ جواب ہو سکتا ہے اور ہے کہ پہلی باتیں جو بیان کی گئی ہیں جب وہ کثرت سے اور شدت سے پیدا ہو جائیں تو انسان سمجھ لے کہ نجات حاصل ہوگئی ہے لیکن انسانی فطرت چاہتی ہے کہ قیاس سے بڑھ کر علم اسے حاصل ہو اور اس فطرتی تقاضا کو صرف اسلام ہی پورا کرتا ہے اور کوئی مذہب نہیں کرتا۔نجات یافلاح اللہ تعالیٰ ٰسے تعلق پیدا کر لینے کا نام ہے اور نجات کا یقین کسی کو تب ہی ہو سکتا ہے کہ اسے خدا تعالی ٰکی دوستی اور محبت کے آثار نظر آنے لگ جائیں۔دیکھو اگر کوئی شخص یہاں بیٹھا ہو اور اسے کہا جائے کہ بادشاہ تم پر خوش ہے تو اسے کس طرح معلوم ہو گا؟اسی طرح کے بادشاہ کی خوشنودی کی اسے چٹھی آجائے یا اس لیے کہ بادشاہ سے وہ خود ملے اور وہ اسے بتائے۔پس دوستی کا تعلق دو طرح ہی معلوم ہو سکتا ہے (۱) قولی طریق سے (۲) عملی طریق سے۔یعنی یا تو خدا تعالی ٰاپنے منہ سے کہہ ہے کہ میں تمہارا دوست ہوں یا اپنے عمل سے اس بات کو ظاہر کر دے اور جس کو یہ بات حاصل ہو جائے اس کو سمجھناچاہیے کہ اسے نجات کا اصل مقام حاصل ہو گیا ہے ورنہ ڈر ہے کہ اسے نجات کے متعلق وھو کاہی لگار ہے اور اگلے جہان میں جاکر حقیقت کا پتہ لگے۔اسلام خدا تعالی ٰکا قولی ثبوت تو یہ پیش کرتاہےکہ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔ه خدا تعالی ٰفرماتا ہے جب مومن ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان کے اس دعوی ٰہے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے کوئی ان کو ہٹا نہیں سکتا وہ مضبوط ہو کر اپنے مقام پر ہمیشہ کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں تو اس وقت ان پر ملائکہ یہ کہتے ہوئے نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور