انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 85

۸۵ نجات چلیں تو مایوس نہیں ہوتا بلکہ خوش ہی رہتا ہے وجہ ہے کہ جس کوکسی کی دوستی پر اختیار ہو اس کے متعلق وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ وہ اسے ہلاک کرے گا۔کیا بچہ ماں کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ وہ مار دے گی؟ ہرگز نہیں اسی طرح جو انسان خداتعالی ٰکی گود میں اپنے آپ کو بچہ کی طرح سمجھتا ہے وہ یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ خواہ اس پر کس قدر مشکلات اور مصائب آئیں خدا اسے تباہ نہیں ہونے دے گا۔نجات سے دور جانے والے کی علامتیں اب اگر کوئی یہ معلوم کرنا چاہئے کہ کیا میں نجات سے دور جا رہا ہوں تویہی باتیں الٹ دیکھ لے۔مثلاً (۱) بدی کرے اور اس پر ندامت نہ ہو اور نیکی کرے توخوشی نہ ہو۔(۲) یہ کہ نفس کمزوری اور برائی پر پردے ڈالے گا اور اس کو برائی قرار نہیں دے گا۔(۳) اگر کوئی نیکی کرے تو نفس اس پر عجب اور فخر کرے۔(۴) اس کے اعمال میں ریاء ہو گا۔(۵) لوگوں سے ہمدردی کی بجائے اس کے دل میں بغض بڑھتا جائے گا اور ایسا انسان نجات نہیں پاسکتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ قدوس ہے اور نجات خد اتعالیٰ سے ملنا ہے اس لئے جو شخص اپنے دل میں کینہ رکھتاہے وہ کس طرح نجات پا سکتا ہے۔یاد رکھنا چاہے دو صفات ایسی ہیں جن میں سے ایک کا کم استعمال برائی ہے اور زیادہ استعمال نیکی اور دوسری صفت کا کم استعمال اچھا ہے اور زیادہ استعمال برا۔مثلاًٍ غضب کا استعمال جائز ہے مگر بلا وجہ جائز نہیں اور رحم بلا سبب بھی جائز ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ غضب کی صفت مقیّد ہے اس کا استعمال ہر جگہ جائز نہیں لیکن دوسری صفت ایسی ہے کہ اس کا استعمال اکثر اوقات ضروری ہے اور بعض اوقات جائز اور بہت ہی قلیل موقعوں پر نا جائزہے۔پس اگر کوئی شخص دیکھے کہ بری صفت اس کے ساتھ لگی رہتی ہے اور اچھی صفت بہت کم ظاہر ہوتی ہے تو سمجھے کہ میں گندا ہو گیا ہوں اور نجات سے دور جارہا ہوں (۶) اگروه خد اکے کام کو اپنا کام نہ سمجھے۔مثلاً کوئی دینی نقصان ہو جائے مگر بجائے اس کے کہ اس پر اسے غم ہو وہ طعنے دے اور ہنسی تمسخر کرے تو وہ نجات سے دور جارہا ہے۔منافقوں کے متعلق آتا ہے کہ لڑائیوں کے وقت جب مسلمانوں کا نقصان ہوتا تو وہ طعنے دیتے اور ہنسی تمسخر کرتے مگر جہاں محبت ہو وہاں ایسا نہیں کیا جاتا۔دیکھو اگر کسی کالڑ کا کوٹھے پر سے گر پڑے تو وہ لڑکے پر اعتراض کرنے شروع کر دیتا ہے اس سے تمسخر کرتا ہے یا روتا ہے؟ وہ روتا ہے اعتراض نہیں کرتا۔پس جس سے محبت ہو اگر اس کا نقصان ہو تو اعتراض کا انسان کے دل میں خیال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ رنج اور غم اور