انوارالعلوم (جلد 7) — Page 591
۵۹۱ میں آنے کے ترقی کا کوئی راستہ کھلا نہیں- اب تلوار کا جہاد اسلام کے لئے مفید نہیں ہو سکتا` جب تک ایمان درست نہ ہونگے اور اسکام کا صحیح مفہوم لوگ نہ سمجھیں گے اور پھر اللہ تعالیٰٰ کی رسی کو سب کے سب مضبوط نہ پکڑ لیں گے اسلام کی ترقی کے سامان پیدا نہیں ہو سکتے- دنیا نے رسول کریم ﷺ پر اعتراض کیا تھا کہ آپ نے نعوذ باللہ تلوار کے ساتھ اسلام کی اشاعت کی تھی ورنہ دل پر اثر کرنے والے دلائل آپ کے پاس موجود نہ تھے اور خود مسلمان اس اعتراض کی تائید کرتے تھے اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس اعتراض کو اپنے رسول سے دور کرے اور اس نے اس غرض سے رسول کریمؐ کی امت میں سے یک شخص کو مسیح کر کے بھیجا ہے تا اس کے ذریعے براہین اور دلائل کی تلوار سے دشمن کو مغلوب کرے اور اسلام کو غالب` تا دنیا کو معلوم ہو کہ جو کام ایک خادم کر سکتا ہے آقا اس کو بدرجہ اولی کر سکتا تھا اب اس ذریعہ کے سوا اسلام کی مدد کا اور کوئی طریق نہیں- اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ رسول کریم ﷺکے دشمنوں کو آپ کی غلامی میں داخل کرے اور اس کا ایک ہی طریق ہے کہ اس سچے اسلام کو جو مسیح موعودؑ لایا ہے اس صحیح طریق سے جو مسیح موعود نے بتایا ہے اس خالص ایمان کے ساتھ جو مسیح موعود نے دلوں میں پیدا کیا ہے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور بھولے بھٹکوں کو راہ راست پر لایا جائے اگر اللہ تعالیٰ کا منشاء ہوتا کہ کسی اور ذریعے سے اسلام کو ترقی دے تو وہ پہلے سب راستوں کو بند کیوں کرتا؟ پس مسیح موعود سے دور رہنا گویا اسلام کی ترقی میں روک پیدا کرنا ہے اور دشمنوں کو موقعہ دینا ہے کہ وہ رسول پاک پر حملے کریں اور آپ کی عزت پر تیر اندازی کریں جسے کوئی باغیرت مسلمان گوارا نہیں کر سکتا- رسول کریم ﷺفرماتے ہیں کہ وہ امت کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے جس کے ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف مسیح موعودؑ- جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی شخص کا ایمان محفوظ رہ سکتا ہے جو ان دونوں دیواروں کے اندر آجائے پس مسیح موعود کے نازل ہو جانے کے بعد جو اس پر ایمان نہیں لاتا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے باہر ہے اور جو مسیح موعود کے راستے میں روک بنتا ہے وہ درحقیقت اسلام کا دشمن ہے اور اسلام کی ترقی اس کو نہیں بھاتی- ورنہ وہ اس دیوار کے قائم ہونے میں کیوں روک ڈالتا` جس کے ذریعے سے اسلام محفوظ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قہر کی تلوار کے نیچے ہے بہتر ہوتا کہ اس کی ماں اس کو نہ جنتی اور وہ مٹی رہتا- اس نحس دن کو نہ دیکھتا-