انوارالعلوم (جلد 7) — Page 544
۵۴۴ نمونہ قرار دیا اور فرمایا کہ یہ طاعون اس وقت تک نہیں جائے گی جب تک کہ لوگ دلوں کی اصلاح نہ کریں گے- اس کے بعد جو کچھ ہوا الفاظ اسے ادا نہیں کر سکتے` طاعون کی ابتداء گو بمبئی سے ہوئی تھی اور قیاس چاہتا تھا کہ وہیں اس کا دورہ سخت ہونا چاہئے مگر وہ تو پیچھے رہ گیا اور پنجاب میں طاعون نے اپنا ڈیرہ لگا لیا اور اس سختی سے حملہ کیا کہ بعض دفعہ ایک ایک ہفتے میں تیس تیس ہزار آدمیوں کی موت ہوئی اور ایک ایک سال میں کئی کئی لاکھ آدمی مر گئے` سینکڑوں ڈاکٹر مقرر کئے گئے اور بیسیوں قسم کے علاج نکالے گئے مگر کچھ فائدہ نہ ہوا ہر سال طاعون مزید شدت اور سختی کے ساتھ حملہ آور ہوئی اور گورنمنٹ منہ دیکھتی رہ گئی اور بہت سے لوگوں کے دلوں نے محسوس کیا کہ یہ عذاب مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے ہے اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں آدمیوں نے اس قہری نشان کو دیکھ کر صداقت کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کے مامور پر ایمان لائے اور اس وقت تک طاعون کے زور میں کمی نہ ہوئی جب تک اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور کو نہ بتایا کہ طاعون چلی گئی- بخار رہ گیا- اس کے بعد طاعون کا زور ٹوٹنا شروع ہو گیا اور برابر کم ہوتی چلی گئی مگر بعض الہامات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس مرض کے ابھی کچھ اور دورے ہونگے اس ملک میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی- اللہ تعالیٰ اپنے عاجز بندوں کو اپنی پناہ میں رکھے- میرے نزدیک یہ پیشگوئی ایسی واضح اور مومن وکافر سے اپنی صداقت کا اقرار کرانے والی ہے کہ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص ضد کرتا ہے تو اس کی حالت نہایت قابل رحم ہے جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھ سکتا ہے کہ ۱ طاعون کی خبر ایک لمبا عرصہ پہلے دی گئی تھی اور کوئی طبی طریق ایسا نہیں ایجاد ہوا جس سے اتنا لمبا عرصہ پہلے دبائوں کا پتہ دیا جا سکے ۲ طاعون کے نمودار ہونے پر یہ بتایا گیا تھا کہ یہ عارضی دورہ نہیں ہے بلکہ سال بسال یہ بیماری حملہ کرتی چلی جائے گی۳ یہ بھی قبل از وقت بتایا گیا تھا کہ یہ بیماری پنجاب میں نہایت سخت ہو گی` چنانچہ بعد کے واقعات نے بتا دیا کہ پنجاب میں ہی یہ بیماری سب سے زیادہ پھیلی اور یہیں سب سے زیادہ موتیں ہوئیں ۴ ڈاکٹروں نے متواتر پیشگوئیاں کیں کہ اب یہ بیماری قابو میں آگئی ہے مگر آپ نے بتایا کہ اس وقت تک اس کا زور ختم نہ ہو گا جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا علاج نہ ہو گا اور ایسا ہی ہوا کہ اس کا دورہ برابر نو سال تک سختی سے ہوتا رہا- ۵ آخر میں اللہ