انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 533

۵۳۳ مقابلے سے انکار کرتے ہوئے مقابلہ کر لیا` اس نے غور کیا کہ حضرت اقدسؑ نے صاف لکھ دیا تھا کہ اگر یہ اشارتاً بھی میرے مقابلہ پر آئے گا تو دکھ کے ساتھ میری زندگی میں ہلاک ہو گا اس نے آپ عکو کیڑا قرار دے کر اور یہ کہہ کر کہ اگر میں اس پر اپنا پاؤں رکھ دوں تو کچل دوں اپنے آپ کو آپؑ کے مقابلے پر کھڑا کر دیا اور خدا کے عذاب کو اپنے اوپر نازل کرا لیا- مگر اس کی سرکشی اور تکبر یہیں پر ختم نہ ہوا اس نے کچھ دن بعد آپ ؑکا ذکر کرتے ہوئے آپ کی نسبت یہ الفاظ استعمال کئے- ’’بیوقوف محمدی مسیح‘‘ اور یہ بھی لکھا کہ ’’اگر میں خدا کی زمین پر خدا کا پیغمبر نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں‘‘ اور دسمبر ۱۹۰۳ء کو تو کھلا کھلا مقابلے پر آکھڑا ہوا اور اعلان کیا کہ ایک فرشتے نے مجھ سے کہا ہے کہ تو اپنے دشمنوں پر غالب آئے گا` گویا حضرت اقدسؑ کی پیشگوئی کے مقابلے میں آپ کی ہلاکت کی پیشگوئی شائع کر دی- یہ اس کا مقابلہ جو پہلے اشارتاً شروع ہوا اور آہستہ آہستہ صراحت کی طرف آتا گیا` جلد پھل لے آیا اور اس آخری حملے کے بعد چونکہ وہ مقابل پر آگیا تھا` حضرت اقدسؑ مسیح موعود نے اس کے خلاف لکھنا چھوڑ دیا اور وانتظر انھم منتظرون )السجدہ(31: کے حکم کے مطابق خدائی فیصلے کا انتظار کرنا شروع کر دیا آخر اللہ تعالیٰٰ نے جو پکڑنے میں دھیما ہے مگر جب پکڑتا ہے تو سخت پکڑتا ہے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور وہ پاؤں جن کو وہ اس کے مسیح پر رکھ کر کچلنا چاہتا تھا اس نے معطل کر دئیے اس کے مسیح پر پاؤں رکھنے کی طاقت تو اسے کہاں مل سکتی تھی وہ ان پاؤں کو زمین پر رکھنے کے قابل بھی نہ رہا` یعنی خدا کا غضب فالج کی شکل میں اس پر نازل ہوا` کچھ دن کے بعد افاقہ ہو گیا` مگر دو ماہ بعد ۱۹ دسمبر کو دوسرا حملہ ہوا اور اس نے رہی سہی طاقتیں بھی توڑ دیں- جب وہ بالکل ناچار ہو گیا تو اس نے اپنا کام اپنے نائبوں کے سپرد کیا اور خود ایک جزیرہ میں جس کی آب وہوا فالج کے لیے اچھی تھی بودوباش اختیار کر لی مگر اللہ تعالیٰ کے غضب نے اس کو اب بھی نہ چھوڑا اور چاہا کہ جس طرح اس نے اس کے مسیح کو کیڑا کہا تھا اس کو کیڑے کی طرح ثابت کر کے دکھائے اور وہ چیز جن پر گھمنڈ کر کے اس نے یہ جرات کی تھی انہیں کے ذریعے اسے ذلیل کرے چنانچہ ایسا ہوا کہ اس کے بیمار ہو کر چلے جانے پر اس کے مریدوں کے دل میں شک پیدا ہوا کہ یہ تو اوروں کی دعا سے نہیں بلکہ اپنے حکم سے اچھا کرتا تھا` یہ خود ایسا کیوں بیمار ہوا اور انہوں نے اس کے بعد اس کے کمروں کی جن میں وہ اور کسی کو جانے نہیں دیتا تھا تلاشی لی تو *ڈوئی کا اخبار