انوارالعلوم (جلد 7) — Page 488
۴۸۸ رہا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہہ رہا ہے اس معیار پر پرکھا نہیں جا سکتا' شیخیہ فرقہ اسی قسم کا عقیدہ رکھتا تھا- اس کا خیال تھا کہ دنیا میں ہر وقت ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو مہدی کی رضاء کی ترجمانی کرتے ہیں اور مہدی کی مرضی خدا کی مرضی ہے- پس ان کی زبان پر جو کچھ جاری ہو یا جو کچھ ان کے دل میں آئے وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے- علی محمد باب اور بہاء اللہ بانی فرقہ بہائیہ اسی فرقہ میں سے تھے- ایسے لوگ چونکہ عقیدتاً اس بات کو مانتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اللہ تعالیٰٰ ہی کی طرف سے کہہ رہے ہیں اس لیے وہ بھی متقول نہیں کہلا سکتے اور اس سزا کے مستحق نہیں جس سزا کے جان بوجھ کر جھوٹ باندھنے والے لوگ مستحق ہیں- اسی طرح اس شخص کی عارضی ترقی بھی اس کی صداقت کی دلیل نہیں جس کی ذاتی وجاہت لوگوں کو اس کے ماننے پر مجبور کر دے یا کوئی جماعت جس کی پشت پر ہو' یا جو عوام الناس کے خیالات کی ترجمانی کر رہا ہو- یا علوم جدیدہ کے میلان کی طرف لوگوں کو لا رہا ہو' ایک یا دوسری وجہ سے لوگ اس کی مخالفت سے باز رہیں- ساتویں دلیل دشمنوں کی ہلاکت ساتویں دلیل آپ ؑکے دعوے کی صداقت کی کہ وہ بھی بے شمار دلائل کا مجموعہ ہے یہ ہے کہ آپ عکے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ نے بلا استثناء اور بلا انسانی ہاتھ کی مدد کے ہلاک کیا ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو جو تکلیف دے ہم اس کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس کو سزا دیتے ہیں اور جو ہمارے کاموں میں روک بنے اس کو اپنے راستے سے ہٹا دیتے ہیں پس اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور آتے ہیں تو عقل چاہتی ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی غیرت بھی دکھائے اور جو ان کو ذلیل کر دے اور جو ان کی ناکامی کی کوشش کریں ان کو ناکامی کا بھی منہ دکھائے- اگر وہ ایسا نہ