انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 487

۴۸۷ سچا مامور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد پاتا ہے اور مفتری علی اللہ رسوا کیا جاتا ہے اور ہلاک کیا جاتا ہے تو پھر حضرت اقدسؑ کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا اور اگر باوجود اس دلیل کے آپ ؑکی صداقت میں شبہ کیا جائے تو پھر سوال کیا جاسکتا ہے کہ دوسرے انبیاء کی صداقت کا کیا ثبوت ہے؟ میں اپنے مطلب کی وضاحت کے لیے پھر یہ کہدینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا یہ مطلب نہیں کہ حضرت اقدسؑ اس لیے سچے تھے کہ آپ پہلے کمزور تھے کہ آپ کو عزت اور رتبہ حاصل ہو گیا ایسی عزتیں تو بہت سے لوگوں کو ملی ہیں- نادر خان ایک کمزور آدمی تھا- پھر عزت پاگیا- نپولین ایک معمولی آدمی سے دنیا کا فاتح بن گیا' مگر باوجود اس کے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ لوگ اللہ کے پیارے اور بزرگ تھے میں یہ کہتا ہوں کہ-: ۱ - حضرت اقدسؑ ؑنے دعویٰ کیا تھا کہ آپ اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے ہیں اگر وہ اس دعوے میں مفتری تھے اور جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے تو آپ ؑکو ہلاک ہو جانا چاہئیے تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ایسے مفتری کو وہ ہلاک کرتا ہے- ۲- آپؑ کی ترقی کے لیے کوئی دنیاوی سامان موجود نہ تھے- ۳- آپؑ کی مخالفت پر ہر ایک جماعت کھڑی ہو گئی تھی اور کوئی جماعت بھی دعوے کے وقت آپؑ کی اپنی نہ کہلاتی تھی جس کی مدد سے آپؑ کو ترقی حاصل ہوئی ہو- ۴- آپ ؑنے دنیا سے وہ باتیں منوائیں جن کے خلاف قدیم اور جدید خیالات کے لوگ تھے- ۵- باوجود اس کے آپ ؑکامیاب ہوئے اور آپ ؑنے ایک جماعت قائم کر دی اور اپنے خیالات کو لوگوں سے منوالیا- اور دشمن کے حملوں سے بچ گئے اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات آپؑ کے لیے نازل ہوئیں- یہ پانچ باتیں جھوٹے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں- یہ باتیں جب بھی کسی میں جمع ہونگی وہ اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے ہوگا اور راستباز ہو گا ورنہ راستبازوں کی راستبازی کا کوئی ثبوت باقی نہیں رہے گا- ہاں اگر کوئی شخص مدعی ماموریت نہ ہو- یعنی خواہ بالکل مدعی ہو ہی نہیں جیسے نادر خاں ،نپولین یا مدعی ماموریت نہ ہو بلکہ کسی اور بات کا مدعی ہو مثلاً جیسے خدائی کا مدعی ہو' یا یہ کہ وہ دیوانہ ہو- وہ اس معیار کے ماتحت نہیں آتا- اسی طرح ایسا عقیدہ رکھنے والا بھی کہ وہ جو کچھ کہہ