انوارالعلوم (جلد 7) — Page 455
۴۵۵ صدمہ پہنچایا ہے ، مگر تعجب ہے کہ یہ لوگ خود بھی شرک میں مبتلا ہیں اور دوسروں سے ان کو صرف اس قدر امتیاز حاصل ہے کہ یہ ہر ایک شخص کو اللہ کا شریک نہیں بناتے۔صرف مسیح علیہ السلام کو اللہ کا شریک سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بھی دوسرے مسلمانون کی طرح مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پربیٹھا ہوا یقین کرتے ہیں،ان کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو افضل الانبیاء تھے زمین میں مدفون ہیں،لیکن حضرت مسیح نعوذ باللہ من ذالک دوہزار سال سے آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو موت ہی نہیں دیتا۔قرآن کریم میں صاف پڑھتے ہین کہ جن بزرگوں کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔اَمْوَاتٌ غَیْرَ اَحْیَائٍج وَمَا یَشْعُرُوْنَلا اَیَّانَ یُبعَثُوْْنَ (نحل رکوع ۲) پھر دیکھتے ہیں کہ مسیحی مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰٰ کے سوا معبود بنائے ہوئے ہیں مگر یہ حضرت مسیحؑ کی زندگی کا خیال نہیں چھوڑتے اور اپنے آپ کو موحد کہتے ہوئے جھجکتے نہیں۔اسی طرح یہ لوگ شرک کے خلاف تو آواز بلند کرتے ہیں مگر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ مردے زندہ کیا کرتے تھے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خود بھی اس دنیا میں مردوں کو زندہ کر کے نہیں بھیجتا ، جیسا کہ فرماتا ہے۔وَحَرَامٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنَھَآ انَّھُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ (سورۃ الانبیاء ع۷)جولوگ فوت ہو چکے ان کے لئے ہم نے یہ فیصلہ کر دیاہے کہ وہ واپس نہیں لوٹ سکیں گے اسی طرح فرماتا ہے وَمِنْ وَّرَآئِھِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(مومنون رکوع ۶) یعنی جو لوگ مر چکے ہیں ان کے پیچھے ایک روک ڈال دی گئی ہے جو قیامت کے دن تک جاری رہے گی اس سے پہلے یہ زندہ نہیں کئے جائیں گے۔یہ لوگ اہل حدیث کہلاتے ہیں، لیکن اس حدیث کو بھول جاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب حضرت جابرؓ کے والد عبد اللہ ؓ شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰٰ نے ان سے کہا کہ مانگو جو کچھ مانگنا ہے۔اس پر انہوں نے کہا میری تو یہی خواہش ہے کہ مجھے زندہ کیا جائے اور میں پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کروں اور پھر تیری راہ میں دشہید ہوں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر میں نے اپنی ذات کی قسم نہ کھائی ہوتی تو میں تجھے زندہ کر دیتا، مگر چونکہ میں نے عہد کر لیا ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔اس لئے ایسا نہیں کروں گا(ترمذی کتاب التفسیر سورہ آل عمران و ابن ماجہ باب فیہاانکرت الجہمیۃو مشکوۃ ابواب جامع المناقب) یہ لوگ نہیں سوچتے کہ جس کام کو اس دنیا میں اللہ تعالیٰٰ بھی نہیں کرتا اور جو اس کی